Updates
Home / Review / آخری آدمی – انتظار حسین

آخری آدمی – انتظار حسین

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران1 Dr Kamran (2)

انتظار حسین کا شمار اُردو کے رجحان ساز افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے علامتی واساطیری افسانے کے سفر میں تہذیبی شعور سے روشنی حاصل کر کے اس صنف کو نئے امکانات سے روشناس کیا۔ انتظار حسین کے افسانوی مجموعوں ’’گلی کوچے‘‘، ’’کنکری‘‘، ’’آخری آدمی‘‘، ’’شہر افسوس‘‘، ’’کچھوے‘‘ اور ’’خالی پنجرہ‘‘ کو اُردو افسانوی ادب میں وقار اور اعتبار حاصل ہے اور پاکستانی افسانے کی شناخت متعین کرتے ہوئے انتظار حسین کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
’’آخری آدمی‘‘ انتظار حسین کے نمائندہ افسانوں میں شامل ہے۔ قصص القرآن میں مذکور ہے کہ بعض قوموں کی گمراہی اور نافرمانی کے باعث اللہ تعالیٰ نے انہیں نمونۂِ عبرت بنا دیا۔ سورۃ بقرہ اور سورۃ الاعراف میں بنی اسرائیل کی نافرمانی اور سرکشی اور اس کے نتیجے میں قہرِ الٰہی کا ذکر ملتا ہے۔ انتظار حسین نے مذکورہ واقعے کی روشنی میں افسانے کا تانا بانا تیار کرتے ہوئے اسے جدید دور کے مادیت پرست طبقے پر منطبق کر دیا ہے۔ زر کی ہوس نے جس طرح آدمی سے اس کی آدمیت چھین کر اسے اعلیٰ اخلاقی قدروں سے محروم کر دیا ہے اور جس طرح اس کی جون تبدیل کر دی ہے،اس کے تناظر میں مذکور، افسانہ کسی خاص عہد یا معاشرت تک محدود نہیں رہتابلکہ آفاقیت کا حامل ہو جاتا ہے۔
مذکورہ افسانے کا مزاج علامتی اور استعاراتی ہے۔ افسانے کا مرکزی خیال قصص القرآن سے ماخوذ ہے اور ’’آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا‘‘ کی تفسیر معلوم ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سجاد باقر رضوی کے بقول:
’’آخری آدمی میں ہوس کاری اور نفس کی موت، انسانوں کو معاشرتی اور تہذیبی سطح سے بندروں کی حیوانی سطح میں اُتار دیتی ہے۔ لالچ اور مکر‘ داخلی طور پر روحانی زوال اور معاشرتی رشتوں کی شکست کی نشانی ہے‘‘۔
مذکورہ افسانے کی کہانی بنیادی طور پر انسانی ہوس کی کہانی ہے،بعض افراد احکامِ الٰہی کی کھلی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں، جبکہ بعض افراد احکامِ الٰہی کی نافرمانی کرتے ہوئے مختلف حیلوں اور بہانوں سے اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نیت کا کھوٹ، اعمال کو منفی بنا کر انسان کی بنیادی ’’کیمسٹری‘‘ تبدیل کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیک اور صالح افراد کا چہرہ ان کے باطن کا آئینہ بن کر ان کی شخصیت کے گرد نور کا ایک ہالہ بنا دیتا ہے اور منافقت، ریاکاری اور بدکاری‘ آدم زاد کی شخصیت کا لازمی حصہ بن کر اس کے وجود، خاص طور پر اس کی آنکھوں میں ثبت ہو کر رہ جاتے ہیں۔
مذکورہ افسانے کا مرکزی کردار ایک شخص الیاسف ہے۔ یہ دانشمند اور صاحبِ شعور ہے، وہ یوم السبت کو شکار، تجارت اور دوسری سماجی سرگرمیوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کی جانے والی پابندی کے پس منظر میں چھپی مصلحت اور حکمت کا ادراک رکھتاہے۔ وہ اپنے قبیلے کے مختلف افراد کو حرص و ہوس اور لالچ کے ہاتھوں مجبور ہو کر احکامِ الٰہی کی خلاف ورزی کرتے اور اس کے نتیجے میں آدمی سے بندر بنتا ہوا دیکھتا ہے تو اپنے آپ سے وعدہ کرتا ہے کہ لالچ اور حرص سے مغلوب ہو کر آدمیت کے مرتبے سے نہیں گرے گا، لیکن آخر کار اس کی عقل ہی اسے فریب دیتی ہے‘ چنانچہ وہ صریح خلاف ورزی کی بجائے مکر، حیلے اور خود فریبی کا سہارا لیتا ہے، وہ ہفتے کے روز، سمندر کے قریب ایک گڑھا کھود کر اس گڑھے کو سمندر سے ملا دیتا ہے، سمندر کی لہریں بہت سی مچھلیوں کو اس گڑھے میں مقید کر دیتیں اور وہ اگلے روز بہت آسانی سے ان مچھلیوں کا شکار کرتا اور حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنی عقلمندی کا کرشمہ قرار دیتا ہے۔
الیاسف خود فریبی کی چادر اوڑھ کر اپنے حال میں مست نظر آتا ہے، لیکن ایک دن اچانک اسے اپنی جسمانی ساخت میں تغیر کی آہٹ محسوس ہوتی ہے اور وہ چاہنے کے باوجود اس تبدیلی سے خود کو محفوظ نہیں رکھ پاتا اوریوں وہ اپنے قبیلے میں بندر بن جانے والا آخری آدمی قرار پاتا ہے۔
الیاسف کے آدمی سے بندر بننے کے دو اسباب ہیں۔ پہلا ذاتی ہے، جس کے باعث اس کے باطن میں پنپنے والے منفی جذبات اس کی شخصیت کو توازن سے محروم کر دیتے ہیں، جبکہ دوسری وجہ سماجی ہے۔ جس کے باعث مادیت پرستی کا زہر سماجی اقدار کے وجود میں سرایت کر جاتا ہے اور فرد سماجی تفاعل سے محروم ہو کر رشتوں کی شکست و ریخت کا مشاہدہ کرتا ہے‘ جہاں ابلاغ کا عمل اس قدر بے وقعت ہو جاتا ہے کہ لفظوں کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ انسان کا بندر بن جانا ایک بڑا سانحہ تھا، جس کے نتیجے میں اسموں سے محروم ہو کر انسان، شعور و آگہی کے ان تمام ثمرات سے محروم ہو گیا جنہوں نے اسے مسجودِ ملائک بنا دیا تھا۔
گوپی چند نارنگ مذکورہ افسانے کو جدید دور کے انسان کی مادیت پرستی اور بے اطمینانی کا نوحہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اخلاقی اقدار کی شکست اور اجتماعی اطمینان کے فقدان کے نتیجے میں ایسا نفسی انتشار ہے کہ انسان بحیثیتِ انسان اپنی جون کو بھی برقرار نہیں رکھ پا رہا۔‘‘
مذکورہ افسانے کی انفرادیت کا ایک اہم سبب اس کا اسلوب ہے، مصنف نے شعوری طور پر کرداروں کے ناموں، فضابندی اور صورتِ واقعہ کی تشکیل میں قدیم عرب کی فصاحت و بلاغت کو پیش نظر رکھا ہے۔
ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی، اس حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ انتظار حسین نے اس زبان اور مخصوص حکایت کے سارے علامتی امکانات کو کنگھالنے کی کوشش کی ہے اسی لیے ان کا استعاراتی بیان پیچیدہ تجربات اور زندگی کے نہاں خانوں میں چھپے ہوئے حقائق کو اپنے نور سے منور کرتا ہے‘‘۔
ڈاکٹر انور احمد، انتظار حسین کے اسلوب کے تخلیقی عناصر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’انتظار حسین کے فن کا بنیادی جوہر یہ ہے کہ وہ تاریخ و تہذیب کے پراسرار اور پیچیدہ جنگل میں اُتر کر اظہار و ابلاغ کے علامتی وسیلے کو معتبر بناتا ہے۔‘‘
مجموعی طور پر ’’آخری آدمی‘‘ نہ صرف انتظار حسین کا بلکہ اُردو کا بھی ایک شاہکار افسانہ ہے، جس میں مصنف نے اپنی فکری و فنی بصیرت کا اظہار کرتے ہوئے اِسے آدمی کی جُگوں اور صدیوں کو محیط کہانی کا استعارہ بنا دیا ہے۔

Comment Using Facebook

About Ammar Sheikh

Check Also

UN Human Rights Committee asks Pakistan about crimes against journalist

Geneva Switzerland July 22, 2017: There has been a clear deterioration in the safety of journalists, …