Home / Review / اشرف ا لمخلوقات ، کون؟…………..معظم احمد

اشرف ا لمخلوقات ، کون؟…………..معظم احمد

3 moazam picانسان کو اللہ نے زمین پر اپنا نائب مقرر کیا اوراشرف المخلوقاتہونے کا شرف بخشتے ہوئے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطاء کی جو ہمیں کائنات میں موجود دیگر جانداروں سے ممتاز کرتی ہے۔ہماری خوش بختی ہے کہ اس نے ہمیں ایک آزاد ملک میں پیدا کیا جہاں سر سبزوشاداب اور لہلاتے کھیت اور چاروں موسم آتے ہیں۔ وطن عزیز کو حاصل کرنے کے لئے ہمارے آباوء اجداد نے بے شمار قربانیاں دی ہیں اب اسکی حفاظت اور ترقی کی ذمہ داری ہماری ہے اگر ہم اپنے فرائض سے غافل رہے تو پاکستان کو خوشحال بنانے کا خواب صرف خواب ہی رہ جائے گا۔ اس کے بر عکس ہمارا معاشرہ کئی ایسی اخلاقی برائیوں میں مبتلا ہے جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں ۔ہماری بنیادی تعلیم میں سکھایا جاتا ہے کہ’’ صفائی نصف ایمان ہے‘‘ جبکہ آج جگہ جگہ گندگی کے ڈھیرہماری اخلاقی گراوٹ کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔بارش اللہ کی رحمت ہے اور اس کے لیے دعائیں بھی خوب مانگی جاتی ہیں۔لیکن بارش کے بعد کیا ہوتا ہے سڑکوں پر پانی کھڑا ہو تو لوگ اپنے گھروں کا کوڑا بنا سوچے سمجھے اس میں پھینک دیتے ہیں اور جب یہ پانی اترتا ہے توگلی کوچے گندگی سے بھرے دکھائی دیتے ہیں جو مختلف قسم کی بیماریوں کا باعث بن کر بچوں اور بڑوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔اکثر یہ کوڑا کرکٹ گٹروں میں پھنس کر نکاسی آب کا بھی سبب بنتا ہے اور پانی کئی کئی دن سڑکوں پر کھڑا رہنے کی وجہ سے بدبو اور تعفن کی وجہ بنتاہے۔ہماری بے حسی کی انتہا اس وقت اپنے عروج پر ہوتی ہے جب گورنمنٹ کی جانب سے رکھے گئے کوڑے دان کو نظر انداز کر کے ہم اپنے گھر وں یادفاتر کا کوڑااس کے ارد گرد پھینکنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ہم بخوبی جانتے ہیں کہ آج کا انسان اس قسم کی کئی غیر اخلاقی حرکات کا روز ہی مرتکب ہوتاہے۔مثال کے طور پہ ٹریفک قوانین کی پابند ی نہ کرنا ہم نے اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔یہاں سگنل توڑنا،ایمبولینس کو رستہ نہ دینا،گاڑی چلاتے وقت پیدل چلنے والوں کا خیال نہ رکھنا تو معمول کی باتیں ہیں بلکہ مزے کی بات تو یہ ہے کہ جہا ں لکھا ہو نو پارکنگ ہم اپنی گاڑیاں بھی وہیں پارک کر کے خود میں فخر محسوس کرتے ہیں جس سے دنیا کو یہ پیغام دیا جا تا ہے کہ ہم کتنے مہذب اور ذمہ دار شہری ہیں۔ایسی ہی ایک مثال بینک کی ہے جہاں پہلے ہی سہولیات کا فقدان ہے رہی سہی کسر سفارشی نکال دیتے ہیں۔بینک میں بل جمع کروانے کے لئے بچے ،بڑے سب ایک ہی لائن میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں جبکہ اصول تو یہ ہونا چاہئے کہ بزرگ شہریوں کو مزید سہولت دی جائے تاکہ انہیں دھکے نہ کھانے پڑیں۔ہمارے بزرگ اس پر بھی قناعت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے قطار میں کھڑے ہو کر ہی بل جمع کروانے پر راضی ہیں لیکن دکھ اس بات کا ہوتاہے جب کوئی سفارشی قطار کی پرواہ کئے بغیرسب کو پیچھے چھوڑتا ہوا اپنا کام نکلوا کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ آج ہر کوئی حکمرانوں سے نالاں دکھائی دیتا ہے اور اپنے گریبان میں جھانکے بغیر معاشرے میں بگاڑکا تمام تر ملبہ گورنمنٹ پر ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھتا ہے۔ معاشرہ کو سدھارنے کی ذمہ داری صر ف حکمرانوں کی نہیں بلکہ ہم سب کی ہے ۔آج کی تعلیم یافتہ نوجوان نسل کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگااور اپنے عملی اقدامات کے ذریعے وطن عزیز کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے کوشش کرنا ہو گی ۔اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے ،جوہم کر بھی سکتے ہیں، تو وہ دن دور نہیں جب ہم دنیا کے نقشہ پر ایک مہذب اور ترقی پسند قوم بن کر ابھریں گے۔ہمیں چاہئے کہ ان سب برائیوں کاسدِ باب کرنے کے لئے اپنے آپ سے شروع کریں اور آئندہ اس بات کا خیال رکھیں کہ معاشرہ جن تقاضوں کی ہم سے توقع رکھتا ہے انہیں ہر حال میں پورا کریں اور اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے گلی محلے کو صاف رکھیں، ٹریفک قوانین کی پابندی کو اپنا شعار بنائیں اور بینک میں بل جمع کرواتے وقت پہلے آنے والوں کا خیال رکھیں۔جب تک ہم اپنے آپ کو ان باتوں کا عادی نہیں بنائیں گے ہمارا وطن عزیز کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو پائے گا۔

Comment Using Facebook

Check Also

Role of Social Media Influencers in Helping People during Covid-19.

Role of Social Media Influencers in helping during Covid-19. By MOHAMMAD SHAHZAD Influencer marketing is …

Leave a Reply

Your email address will not be published.