Home / Urdu / انسان اور قدرت کے تحفے

انسان اور قدرت کے تحفے

یہ کہانی ہے ہماری اور ہماری اس دھرتی ماں کی، جسے ساڑھے چار ارب سال ایسا ماحول بنانے میں لگے جس میں آج اس کے سات ارب بچے اور بے شمار زمینی ، سمندری اور فضائی حیاتیات پرورش پار رہے ہیں ۔ مگر ہم انسانوں نے ماحول کے اس توازن کو ہی تباہ کردیا ہے جو ہماری زندگی کا ضامن ہے۔ ذرا غور سے سنئے اور سوچئے کہ ہم اپنی دھرتی ماں، اپنی اور آنے والی نسلوں کی زندگی کے ساتھ کیا کرنا چاہ رہے ہیں۔
آج سے ساڑھے چار ارب سال قبل ہمارا نظام شمسی محض دھوئیں اور گیسوں پر مبنی ایک گولہ تھا پھر ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا اور ہماری یہ زمین اور نظام شمسی وجود میں آئے۔شروع میں زمین آگ اور دھوئیں کا مجموعہ تھی پھر آہستہ آہستہ زمین کے درجہ حرارت میں کمی واقع ہونا شروع ہوئی ۔دھوئیں کے بادلوں نے آبی بخارات کی شکل اختیار کی جو بعد طوفانی بارشوں میں تبدیل ہوگئے اور زمین پر پانی کے بڑے ذخائر کو جنم دیا۔ کچھ سمندر اور دریاوٗں پر مبنی مائع کی شکل میں اور کچھ ٹھوس برف کے عظیم الشان ٹکڑوں کی صورت میں۔ فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور آکسیجن کی مقدار ایک خاص توازن کے سانچے میں ڈھلنے لگیں ۔لاوا پہاڑ وسیع پیمانے پر آگ کے موتی اگلتے رہے ، کئی نئے خطے ابھرے اور ، کئی تباہ ہوئے ، چٹانیں ٹکرا ٹکرا کر زمین کو نئی جغرافیائی شکل دیتی رہیں۔ کئی اشیاء صفحہ ہستی سے مٹ گئی اور کئی اجناس نے اپنا وجود پالیا ۔
مگر قدرت نے رفتہ رفتہ ان سبھی عوامل کو لگام ڈال دی اور اور ہماری زمین اور فضاء کو اس قابل بنادیا جس میں ہم انسان اور دیگر جاندار عام حالات میں زندہ رہ سکیں۔ ہماری زمین پر ہرے بھرے درختوں کو اگانے کے لئے قدرت کو چار ارب سال لگے جو ہماری زندگی اور بقاء کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ قدرت کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی شے مکمل طور پرخود پر انحصار نہیں کرتی۔ ہوا، پانی، درخت ، پہاڑسب کے سب ایک جسم کی طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں کسی بھی ایک شے میں بدلاوٗ فطرت کے دیگر تمام عوامل پر اثر انداز ہوتا ہے اور ہماری زندگی ان تمام عوامل کے ایک مناسب توازن پر انحصار کرتی ہے۔
دو لاکھ سال قبل پردہ زمین پر انسان نمودار ہوااور جنگلوں سے اپنی کہانی کا آغاز کیا۔ آگ دریافت کی، شکار کے لئے پتھر سے اوزاربنانے سیکھے ۔اشاروں اور آوازوں کے ذریعے ایک دوسرے سے گفتگو کرنا سیکھا اور تقریباََ ایک لاکھ اسی ہزار سال یوں ہی شکار اور جنگل کے پتوں اور پھلوں کے سہارے گزار دئیے ۔ پھر موسم کی تبدیلیوں کے ساتھ انسان نے غاروں کے باہر کھلے ماحول میں زندگی گزارنے کا طریقہ بھی سیکھ لیا۔
تقریباَگیارہ ہزار سال قبل انسان نے زراعت کا فن دریافت کر کے دنیا کا سب سے پہلاعظیم انقلاب برپا کیا۔ اب انسان کی خواراک کے مسائل حل ہونا شروع ہو گئے ۔ انسان نے دریاوٗں ، ندیوں اور سمندر کناروں پر اپنے شہر آباد کرنا شروع کر دئیے اور تہذیبوں نے اپنا وجود پانا شروع کیا۔ حتیٰ کہ آج بھی انسانوں کی ذیادہ تر آبادی بندرگاہوں اور دریاوٗں کے کناروں پر بستی ہے۔ مگر تیل، گیس ،کوئلے کی دریافت اور ان کے زراعت اور دیگر ترقیاتی کاموں کے لئے استعمال نے ہمارے ماحول کی تباہی کے سفر کا آغاز کر دیا۔ ہم نے یہ سب کچھ اپنی زندگی کو آسان اور پرتعیش بنانے کے لئے کیا مگر ہمیں اس کی کیا قیمت چکانی پڑ رہی ہے ، ہم اس کا ٹھیک طرح سے اندازہ بھی نہیں لگا پا رہے۔ صرف گزشتہ ساٹھ سالوں میں ہی ہم نے ماحول کو وہ نقصان پہنچا دیا ہے جو ہم سے قبل ہمارے آباوٗاجداد تقریباََ دو لاکھ سالوں میں بھی نہیں پہنچا سکے۔
سوچنے کی بات ہے کہ دنیا بھر کے کسان زمین کا سینہ چھلنی کر کے کیا صرف انسانوں کے لئے ہی خوراک تیار کر رہے ہیں؟ یا زراعت کے لئے استعمال ہونے والے دنیا کے ستر فیصد استعمال شدہ پانی کا کچھ اور بھی تصرف ہے؟صرف امریکہ میں اتنی گندم ایک سال میں پیدا کی جاتی ہے جس سے اڑھائی ارب انسانوں کو خوراک مہیا کی جاسکتی ہے۔ مگر امریکہ سمیت دنیا کے تمام صنعتی ممالک میں زرعی اجناس کا بڑا حصہ بائیوفیول اور لائیوسٹاک کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ کیا ہم جانتے ہیں ہیں کہ ہم ایک کلو چاول کے لئے چار ہزار لیٹر پانی اور ایک کلو بیف کے لئے 13 ہزار لیٹر پانی استعمال کر رہے ہیں؟اور کیا ہم جانتے ہیں کہ فصلوں پر کا م کر رہی مشینوں ، چھڑکی جانے والی جراثیم کش ادویات اور گرین ہاوٗس گیس ہماری فضاء کو کس طرح تباہ کر رہے ہیں؟یا ہم جانتے ہیں دنیا بھر میں فصلوں کو نامناسب طریقے سے پانی دینے کے باعث ایک تہائی سے ذیادہ تازہ پانی ضائع ہو جاتا ہے؟
زندگی کی بقاء کے لئے سبزیوں ، پھلوں اور گوشت کا حصول ضروری ہے مگر اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی تیس سے چالیس فیصد خوراک کی پیداوار ضائع ہو جاتی ہے۔ ہماری بے لگام خواہشات اور رویوں نے تیل اور گیس سمیت دیگر قدرتی وسائل پر ذیادہ سے ذیادہ انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے دنیا کے 80 فیصد معدنی وسائل دنیا کی صرف 20 فیصد آبادی استعمال کر رہی ہے جبکہ دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ممالک میں انسان پینے کے صاف پانی کے لئے تڑپ رہا ہے اور وسائل کی تقسیم کا یہ توازن انتہائی خطرناک ہے۔ زندگی میں ذیادہ سے ذیادہ سہولیات کی فراہمی کے لئے انسان نے زمین میں ہرطرف کھدائی کر کے قدرتی وسائل کو استعمال کیا۔ 1859 میں دریافت کئے جانے والے تیل کی کہانی ذیادہ پرانی ہے اور نہ ہی اب ذیادہ دیر رہنے والی ہے کیونکہ تیل کے ذخائر بھی آنے والی چند دہائیوں میں ختم ہو جائیں گے۔ دنیا میں ڈیڑھ ارب افراد جدید دور کی بنیادی سہولیات سے محروم تقریباََویسی ہی زندگی بسر کر رہے رہیں جیسا کہ چھ ہزار سال قبل انسان زندگی گزار رہے تھے اور یہ تعداد دنیاکی تمام ترقی یافتہ ممالک کی آبادی سے ذیادہ ہے۔
انسان جتنی ذیادہ ترقی کر رہا ہے توانائی کی طلب بھی اتنی ہی ذیادہ بڑھ رہی ہے۔ آبادی دسیوں گنا تیزی سے بڑھ رہی ہے1800 عیسوی تک دنیا میں صرف 1 ارب انسان بستے تھے، اب سات ارب کے لگ بھگ ہے اور 2050 تک آبادی کے ایک خوفناک اضافے کے ساتھ 9 ارب تک بڑھ جانے کا خدشہ ہے ، دنیا کی تمام صنعتیں ترقی کر رہی ہے اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے بین الاقوامی کاروبار بیس گنا بڑھ چکا ہے ۔مگر ہم بلا سوچے سمجھے اور بغیر احتیاط کئے قدرت کے ان تحفوں کو ختم کرتے چلے جارہے ہیں جو قدرت نے ہماری زندگی کی ضمانت کے طور پر ہمیں فراہم کئے اور نتیجہ یہ ہو گا کہ یہ کائنات ایک ایسے ماحول میں ڈھل جائے گی جہاں انسان اور دیگر حیاتیات کا زندہ رہنا ناممکن ہو جائے گا۔
انسانی ترقی کی دوسری جانب کے حقائق یہ ہیں کہ دنیا کی کثیر آبادی کو خوراک ،پانی اور صاف ہواکی کمی کا سامنا ہے ۔ دنیا کے عظیم الشان دریا سکڑ چکے ہیں۔ زیر زمین پانی کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے اور اعداد و شمار کے مطابق 2025 تک دنیا کے دو ارب انسان پانی کی کمی سے شدید متاثر ہوں گے۔ہر سال 12 سے 15 کروڑ ہیکٹر جنگلات سکڑ رہے ہیں جس کا مطلب ہے فضاء میں آکسیجن کی مقدار میں کمی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی تعداد میں اضافہ جو ہمارے نظام تنفس پر اثر انداز ہونا شروع بھی ہو چکی ہے اور آج انسان جس فضاء میں سانس لے رہا ہے گزشتہ دو لاکھ سالوں میں کبھی بھی فضاء اتنی آلودہ نہیں رہی۔ صنعتی انقلاب کے بعد اب تک فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں چالیس فیصد اضافہ ہو چکا ہے ۔ دنیا کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گزشتہ چالیس سالوں میں آرکیٹک کے برفانی ذخائر میں 40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے ماہرین کے مطابق 2030 سے قبل یہ برفانی ذخائر مکمل طور پر غائب ہو سکتے ہیں۔ قطب شمالی میں برف کے ذخائر 30 فیصد تک کم ہو چکے ہیں گرین لینڈ میں پوری کائنات کے 20 فیصد تازہ پانی کے ذخائر موجود ہیں اور پوری دنیا میں خارج ہونے والی گرین ہاوٗس گیسز کے باعث اگر یہ برفانی ذخائر پگھل گئے تو سمندر کی سطح بلند ہو جائے گی ۔ دنیا کے بڑے بڑے شہر تباہ ہو جائیں گے اور دنیا کی ستر فیصد آبادی متاثر ہوگی جس میں ہم سب شامل ہوں گے۔ گرین ہاوٗس گیس فضاء میں جس سطح تک شامل ہو چکی ہے گزشتہ 8 لاکھ سالوں میں بھی نہ تھی۔ سائبیریا کی برفانی سطح کے نیچے میتھین گیس کا ایک ایسا ٹائم بم ہے جو آہستہ آہستہ پھٹنے کا انتظار کر رہا ہے ۔ میتھین گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ سے 20 گنا ذیادہ طاقتور ہے اور برف پگھلنے سے جب وہ ہوا میں شامل ہو گی تو اس سے ہونے والی ماحولیاتی تباہ کاری کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔
ماحولیاتی تبدیلیوں سے پاکستان بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔ پاکستان کے پاس قطب شمالی اور قطب جنوبی کے بعد دنیا میں سب سے بڑابرفانی ذخیرہ (Glacial System) بیافو ہسپر کے مقام پر موجود ہے جو تیزی سے گھٹ رہے ہیں ۔ہمارے بڑے دریاوٗں کا پانی ڈیم نہ ہونے کے باعث سمندر میں ضائع ہو رہا ہے۔ پاکستان میں جنگلات کو گھریلو آسائشوں کے حصول کے لئے بری طرح کاٹا جا رہا ہے۔ آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا میں سوات، چٹہ بٹہ اور دیگر علاقوں میں ٹمبر مافیا پیسے کمانے کے لئے قیمتی درخت چرا کر بیچ رہے ہیں اور قدرت میں بے جا رخنہ اندازی کی سزا پاکستان میں 2010 کے سیلاب کی شکل میں ملی جس میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اورپاکستان کی معیشت کو 43 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا اور اسے انڈونیشیا کی سونامی سے بڑی آفت قرار دیا گیا۔ پاکستان میں صنعتیں ماحول کو محفوظ بنانے والے تمام قوانین کی بری طرح خلاف ورزی کر رہی ہیں اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چنگ چی رکشے انفرادی طور پر کسی کے روزگار کا سبب تو ضرور ہیں مگر اجتماعی طور پر ہماری آنے والی نسلوں کے لئے زندہ رہنا ناممکن بنا رہے ہیں۔ کیا ہمارے لئے ممکن نہیں کہ ہم اپنی صنعتیں ماحولیات کے قوانین کے تحت چلائیں، ڈیم بنائیں، درختوں کو بچائیں، نئے درخت لگائیں، اور ٹو سٹروک رکشوں کو فور سٹروک میں تبدیل کر کے دنیا کی سات ارب آبادی کو تحفظ فراہم کرنے والے ماحول کو بچائیں؟کیا ہم گاڑیوں اور سڑکوں کو دھونے، شیو کرنے اور دانت صاف کرنے کے دوران پینے کے پانی کو ضائع ہونے سے بچاکر آئندہ آنی والی نسلوں کے لئے محفوظ نہیں کر سکتے؟کیا ہم حضرت محمد ﷺ کے ارشاد کے مطابق وضو کے دوران پانی کو ضائع ہونے سے نہیں بچا سکتے ؟ یقیناًہم کر سکتے ہیں۔
ہم ایک ترقی یافتہ نسل ہیں اور ہم کائنات کی ہر شے پر پے درپے فتح حاصل کر رہے ہیں۔ لیکن اعداد و شمار کے مطابق ہمارا جنگی جنون اس حد تک بڑھ رہا ہے کہ ہم ترقی پذیر ممالک کو دی گئی امداد سے 12 گناہ زیادہ جنگی اخراجات پر صرف کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2001 سے 2010 تک کا عشرہ شدید موسمی تبدیلیوں کا عشرہ رہا ہے۔ پچھلے عشرے کے مقابلے میں ماحولیاتی اموات میں 20 گنا تک کا خوفناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ روزانہ پانچ ہزازافراد گندہ پانی پینے کے باعث انتقال کر رہے ہیں ۔ حیاتیات قدرتی انتقال کی شرح سے ایک ہزار گنا ذیادہ تیزی سے اموات کا سامنا کر رہی ہے۔ دنیاکا اوسط درجہ حرارت انسانوں کے قیام سے اب تک گزشتہ چند سالوں میں سب سے ذیادہ بڑھ چکا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق 21 ویں صدی کے اختتام تک زمین کا درجہ حرارت چار ڈگری فارن ہائیٹ تک بڑھ گیا تو چالیس سے ستر فیصد زمینی و سمندری حیاتیا ت کا وجود خطرے میں پڑ جائے گااور یہ ایک ہولناک تباہی ہو گی۔ماحولیاتی تبدیلیاں ہولناک طوفانی بارشیں ، وسیع پیمارے پر سیلاب اور بیماریاں لانے کا باعث بنیں گی۔ مگر انسانی ترقی در ترقی کی منازل طے کر رہا ہے ۔ کیا ہم ابھی بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ قدرتی وسائل کا استحصال اور ان کا بہت ذیادہ استعمال ہمیں تباہی کی جانب لے جا رہا ہے؟
ہمیں یہ قطعاََ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہمارے انفرادی عمل سے دنیا کو کیا فرق پڑسکتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی ہوا کی سرحدیں دیکھی ہے؟ کیا آپ کو آسمان میں حد بندیاں نظر آتی ہیں؟کیا آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ اپنے اپنے ممالک میں رہتی ہیں ؟بالکل نہیں! ہمارے اعمال ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم انفرادی طور پر جو بھی کرتے ہیں اس کا انجام پوری کائنات کو اور ہماری آنے والی تمام نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔
لیکن ہمیں ابھی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم ابھی بھی اپنی کائنات کو بچانے کے لئے سب کچھ کر سکتے ہیں ہمارے پاس صرف اور صرف وقت کی کمی ہے مگر ہم اس ماحول کے توازن کو مزید بگڑنے سے بچاسکتے ہیں۔ ہمیں کرنا یہ ہے کہ زمین کو کھود کر تیل ، کوئلے اور گیس پر انحصار کرنے کی بجائے سورج سے توانائی حاصل کریں۔ سورج ایک گھنٹے میں جتنی توانائی زمین کو مہیا کرتا ہے وہ پوری بنی نوع انسان کی ایک سال کے لئے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی ہے۔ ہم ابھی بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں اور بہت کچھ کر بھی رہے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے مشینوں میں ایسی ٹیکنالوجی متعارف کرانا شروع کر دی ہے جو سورج سے توانائی حاصل کر سکے۔ پاکستان میں بھی بجلی کے بحران سے نبٹنے کے لئے بہاولپور اور دیگر علاقوں میں سولر پارک قائم کئے جا رہے ہیں ۔ اور دنیا بھر میں کئی عقلمند لوگ اپنے گھروں کے لئے بجلی شمسی توانائی کے ذریعے حاصل کر رہے ہیں۔ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے دنیا کے کئی ممالک ہوا اور سمندر کی لہروں کی طاقت سے توانائی پیدا کرنے کی جانب چل پڑے ہیں اور دوبارہ استعمال کی جاسکنے والی توانائی جیسے جیو تھرمل توانائی پر توجہ دے رہے ہیں۔ دنیا کہ کئی ممالک نے پانی کو دوبارہ استعمال کرنے کی ٹیکنالوجی متعارف کرا دی ہے۔ دنیامیں نئے قدرتی پارکس قائم کئے جارہے ہیں اور وقتاََ فوقتاََ شجر کاری کی مہمات چلائی جا رہی ہیں ۔استعمال شدہ کاغذات کو ری سائیکل کر کے انہیں دوبارہ استعمال میں لایا جا رہا ہے جس سے زمینی پانی اور جنگلات، دونوں کی بچت ہو رہی ہے۔ پولی تھین بیگز کی جگہ ماحول دوست بیگز کے استعمال کا شعور بڑھ رہا ہے۔ دنیا میں ماحول دوست شہرکا نظریہ فروغ پا رہا ہے ماحول کو بچانے کے لئے منصوبہ بندی موجود ہے ہمیں صرف آگے بڑھ کر اس پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ آج ذیادہ اہم مسئلہ یہ نہیں کہ ہم کیا کھو چکے ہیں، ذیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہمارے پاس کیا بچ گیا ہے اور ہم اسے محفوظ بنانے کے لئے کیا کر رہے ہیں؟ہمیں ایک عقلمند صارف بننا ہے۔ خواہشات کو بے لگام ہونے سے بچانا ہے ، ہم اپنے اعمال سے دنیا کو تباہ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ ہماری دھرتی ماں آج 7 ارب بچوں کی پرورش کر رہی ہے۔اگر ہم نے قدرت کے تحفوں کی حفاظت نہ کی تو ہماری تباہی کے لئے زمین ذرہ بھر بھی قصور وار نہ ہو گی۔
For your feedback: powersquad9@hotmail.com

Comment Using Facebook

About Shabbir Sarwar

Check Also

کتب بینی کے شوق کو پروان چڑھانے کیلئے کتابوں کی گھر گھر رسائی ہونے چاہیے،ڈاکٹر مجاہد کامران

لاہور (22 اپریل،جمعہ):وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا ہے کہ کتابیں …