قلم کی جوجگہ تھی وہ وہی ہے

قلم کی جوجگہ تھی وہ وہی ہے
March 04 14:32 2017 Print This Article

قلم کی جو جگہ تھی وہ وہیں ہے
پر اس کا نام تک باقی نہیں ہے
قلم کی نوک پہ نکتہ ہے کوئی
جو سچ ہو وہ بھلا جھکتا ہے کوئی
وہ جس بچپن نے تھوڑا اور جینا تھا
وہ جس نے ماں تمھا را خواب چھینا تھا
مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے
مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے
وہ جس کو سوچ کے سوتی نہیں ماں
کتابیں دیکھ کے روتی رہی ماں
ہے کس کی واپسی کی راہ تکتے
یہ دروازہ کھلا بابا کیوں رکھتے
وہ جو ساری ہی نظروں سے گرا تھا
نہ تھا انسان نہ جس کا خدا تھا
مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے
مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے
ڈر کے سامنے، ہنستا گیا ہے
جو اپنا چھوڑ کر بستہ گیا ہے
تھی اک کیسی کہانی لکھ گیا وہ
کتابوں میں نشانی رکھ گیا وہ
وہ ماتھا چومنے والا لہو تھا
وہ جس نے خواب کو بھی خوں کیا تھا
مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے
مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

Comment Using Facebook

  Categories: