Home / Urdu / قومی سانحہ اور ملکی تاریخ

قومی سانحہ اور ملکی تاریخ

Ali Arshad16 دسمبر 2014 ملک کی تارخ کا وہ سیاہ ترین دن تھا جس نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا، اس دن ظالموں نے سکول کے معصوم بچوں پربارود اور گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کی جتنے سخت الفاظ میں مذمت کی جائے کم ہے ۔ ہمارے ملک کی تاریخ میں 16 دسمبر پہلے ہی جگر کے ٹکڑے کر چکا ہے ایک بار پھر اسی تاریخ کا انتخاب کر کے دل کو تار تار کر دیا۔اور شکر کہ اس کربناک واقع کے بعد تمام تر لیڈران اور قوم نے ملک دے دہشت گردی کے ناسور کو فنا کرنے کی قسم کھائی اور بھر پور توانائیوں کے ساتھ عمل پیرا بھی ہیں۔اس کا م کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے قومی ایکشن پلان کو مرتب کیا گیا جس پر تمام سیاسی جماعتوں اور مکتبہ فکر نے من و عن عمل درآمد کا قومی ارادہ کیا ہے،نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرتے ہوئے صوبہ پنجاب میں وزیر اعظم پاکستان اور پنجاب حکومت نے اعلیٰ تربیت یافتہ انسداددہشت گردی فورس کے قیام کو عملی جامہ پہنانا،31 جنوری ہفتہ کے دن لاہور کے بیدیاں روڈ پر اس فورس کی پہلی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں 421 کارپور لز نے اپنی جدید اور نہایت اعلیٰ اطوار پر کی گئی تربیت کا عملی مظاہرہ کیا۔تقریب کی شان وزیر اعظم پاکستان نواز شریف، چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف،وزیرا علیٰ پنجاب شہباز شریف،وفاقی وزیر داخلہ اور دیگر سول وفوجی افسران نے بھی شرکت کی۔انسداد دہشت گردی فورس کو پاک فوج کے مایہ ناز اور تجربہ کا رٹرینرز نے عمدگی کے ساتھ تربیت سے نوازا اور ملک و قوم کی حفاظت کے لیے ہمہ تن تیار بھی کیا ۔ملک کو مزید سانحات سے محفوظ رکھنے کے لیے اس فورس کا قیام احسن اقدام ہے لیکن اس طرح کی ایک فورس ملک کے دیگر صوبوں میں بھی بنا کر دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔ملک میں قائم تمام تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کو اپ گریڈ کر کے مزید سخت کر دیا گیا ہے لیکن صورتحال ان تعلیمی اداروں میں چھٹی کے اوقات میں خاصی کمزور نظر آتی ہے ۔طلباء کا تعلیمی اداروں سے چھٹی کے بعد ہجوم کی شکل میں باہر آنا اور اداروں سے منسلک سڑکوں پر جمع ہو جانا سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہے ۔کچھ ایسی ہی صورتحال سکولوں،کالجوں کے باہر کھڑی بسوں ،ویگنوں،رکشوں کی بھی ہے جو تعلیمی اداروں سے چھٹی ہونے پر طلبہ و طالبات کو لانے اور لیجانے کا کام سرانجام دیتے ہیں طویل قطاروں میں کھڑی یہ گاڑیاں اور رکشے نا صرف ٹریفک کا نظام درہم برہم کرتے ہیں بلکہ ادارے کی سیکیورٹی کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔اکثر اداروں میں ان پک اینڈ ڈراپ کی سہولت مہیا کرنے والے ڈرائیوز کے کوائف ،نام ،قومی شناختی کارڈ اور رہائشی ایڈریس جمع ہی نہیں ہیں۔تعلیمی ادارے جہاں دیگر سیکیورٹی معاملات کو پرا کر رہے ہیں وہی پر ان پک اینڈ ڈراپ کی سہولت مہیا کرنے والے افراد کے مکمل کوائف بھی درج ہونے چاہیے تاکہ ہمارے ملک کے مستقبل کے معمار کسی بھی ناخوش گوار حادثے سے محفوظ رہیں پاکستان کے ہر فرد کو ملک دشمن عناصر کے خلاف جاری جنگ میں اپنا کردار ادا کر نا ہوگا یہ عمل علاقائی سطح سے لیکر قومی سطح تک قومی و ملی یکجہتی کا پیکر ہونا چاہیے۔

علی ارشد

Comment Using Facebook

Leave a Reply

Your email address will not be published.