Home / Urdu / ناجائز تجاوزات اور تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی…………….علی ارشد

ناجائز تجاوزات اور تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی…………….علی ارشد

5 Ali Arshadعلم کا خزانہ کسی بھی قوم کے لیے اس کے قیمتی ترین اثاثہ سے کم نہیں ہوتا اور روئے زمین پر وہی قومیں پھلتی پھولتی ہیں جنہوں نے اپنے اس عظیم خزانے کی قدر و منزلت کو پہنچانا ہے ۔وطن عزیز کے جید حکمرانوں نے پچھلے67 سالوں سے لیکر اب تک تعلیمی میدان میں قومی بجٹ کا صرف2فی صد مقرر کر رکھا ہے جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔پاکستان بھر میں ڈھائی کروڑ کے لگ بھگ بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ توکیا درسگاہوں کے درودیوار دیکھنے کی آرزو نہیں رکھتے،اور یہی طفلان و بالغان اپنے والدین کے ساتھ مل کر شکم کی آگ بجھانے کے لیے دن بھر سخت گیر مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔طلوع سحرسے دن ڈحل جانے تک تن من دھن کی تک و دو میں مصرو ف نظر آتے ہیں اور آنکھوں میں تعلیم کی پیاس لیے اشکوں میں ڈوبے پھرتے ہیں۔اقتدار کی مسند پر براجمان حکمران اپنی تقریروں میں تعلیم کے فروغ اور ہر بچے کو سکول میں داخل کروانے کے بلند و بانگ دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر کیا یہ دعوے کاغذوں اور فائلوں کی دھول تک ہی رہیں گے یا خلوص نیت کے ساتھ شرمندہ تعبیر بھی ہو سکیں گے۔
کچھ بات تعلیمی اداروں کی کر لی جائے جن کی سیکیورٹی اور خوبصورتی میں حکومت کی جانب سے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی۔دہشت گردی کے ناسور نے ہمارے ملک کے درسگاہوں کو بھی اپنے ناپاک اعزائم کا نشانہ بنایا اور اس قوم کے جذبے اور جرات کو للکارا مگر بندوق کی گولی سے زیادہ قلم کی طاقت زیادہ طاقتور ہے اور علم کی شمع اندھیروں میں اجالے کا ذریعہ ہے ۔بیشتر تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے معاملات صرف دکھاوے کی حد تک محدود ہیں۔تربیت یافتہ گارڈز اور عملہ ابھی تک درکار ہیں۔ایک طرف حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں سخت ترین سیکیورٹی کے انتظامات کا حکم صادر کیا گیا ہے تو دوسری جانب انہی تعلیمی اداروں کی بیرونی چاردیواری کے ساتھ بیٹھے قبضہ مافیااور ناجائز تجاوزات سے نظریں چرا کر کیا ہم مزید کسی سانحے کے رونما ہونے کے منتظر ہیں ۔ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ افسران سے اپیل ہے کہ جلد از جلد تمام تعلیمی اداروں کے اطراف سے ناجائز تجاوزات اور بااثر قبضہ مافیا کیخلاف پوری قوت کے ساتھ آپریشن کیا جائے تاکہ مزید کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔یہ آپریشن بلا امتیاز اور مستقل حل کی صورت میں ہونا چاہیے تاکہ دوبارہ سے یہ تجاوزات تعلیمی اداروں کے لیے سیکیورٹی خدشات کا باعث نہ بنیں۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ ایک علم دوست شخصیت کے حامل ہیں اور ہمہ تن تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں بھی رہتے ہیں۔مگر موجودہ حالات میں ہمارے مستقبل کے معماروں کی حفاظت اشد ضروری ہے جس کے لیے صوبے بھر میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات بھی کئے گئے ہیں لیکن تعلمی اداروں کے گرد ناجائز تجاوزات کی بھر مار کا خدانخواستہ غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے ۔ہماری قوم مزید کسی سانحے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔یہ تجاوزات نہ صرف سیکیورٹی خدشات کا باعث ہیں بلکہ بجلی چوری،پانی کے ناجائز کنکشن اور بھتہ کے کاروبار میں ملوث ہو کر ملکی معیشت پر بوجھ کا باعث بھی ہیں۔
پاکستان تعلیم کے میدان میں دیگر ممالک سے ترقی میں بہت پیچھے ہے جب تک ہمارے ملک کے حکمرانوں کی ترجیحات میں تعلیم سرفہرست نہیں ہوگی ملک ترقی نہیں کر سکتا ۔اس مقصد کے حصول میں سب سے پہلے سالانہ GDP 2 فیصد سے بڑھا کر کم از کم 30% کرنا چاہیے۔سکولوں میں انرونمنٹ کا خواب فائلوں کی گردسے نکل کر شرمندہ تعبیرہو نا وقت کی اشدضرورت ہے تاکہ جو ہاتھ محنت مزدوری سے برباد ہو رہے ہیں وہ قلم اورکتابوں کی گرفت سے کھل اٹھیں۔

Comment Using Facebook

About Editor

Check Also

پنجاب یونیورسٹی ادارہ علوم ابلاغیات کے دوسرے کانووکیشن کا انعقاد

Comment Using Facebook