Home / Interview / پاکستان کی تمام حکومتوں نے تعلیم کو نظر انداز کیا آج ہم اسکی قیمت ادا کر رہے ہیں.ڈاکٹر مجاہد کامران

پاکستان کی تمام حکومتوں نے تعلیم کو نظر انداز کیا آج ہم اسکی قیمت ادا کر رہے ہیں.ڈاکٹر مجاہد کامران

دی ایجوکیشنسٹ کے ساتھ خصوصی انٹرویو
انٹر ویو: ڈاکٹر محبوب حُسین، شبیر سرور

DSC_5478

یونیورسٹیوں کی رینکنگ میں بہتری کیلئے گرایجوایٹ طلباء اور پی ایچ ڈی اساتذہ کا تناسب بہترہونا چاہیے ۔ دنیا کی تمام معروف جامعات میں یہ تناسب 30سے 40فیصد ہے۔ جس طرح فوج، بیوروکریسی کے لوگوں کی تربیت کے کورسز چلتے رہتے ہیں اسی طرح تمام اساتذہ کی تربیت کا پروگرام جاری رہنا چاہیے ۔ بہتر کارکردگی کیلئے اساتذہ کے لئے جامعہ میں رہائشی سہولتوں میں اضافہ ضروری ہے۔ ا ن خیالات کا اظہار رئیسِ جامعہ ڈاکٹر مجاہد کامران نے دی ایجوکیشنسٹ سے خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ صوبائی HEC بنائے جانے کے حق میں نہیں ہوں،میں سمجھتا ہوں کہ صوبوں میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ یونیورسٹیوں کو چلا سکیں، اسکا بہت نقصان ہوگا۔ پاکستان بننے سے اب تک تمام حکومتوں نے شعبہ تعلیم کو نظر انداز کیا ہوا ہے اور یہ ہمیں اتنا مہنگا پڑ اہے کہ لوگوں کو اندازہ نہیں ہواکہ آج پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ ہم اسی کی قیمت ادا کر رہے ہیںیہاں مختلف قسم کے نظام چل رہے ہیں۔ ایک نظامِ تعلیم کے تحت پڑھے بچے دوسرے نظامِ تعلیم کے تحت پڑھے بچوں سے بات چیت بھی نہیں کر سکتے، ان کی دنیائیں اور ذہنی ماحول ہی الگ ہیں۔ بالآخر آپ کو ایک ہی تعلیمی نظام اختیا ر کرنا پڑے گا ۔ ڈاکٹر مجاہد کامران اور دی ایجوکیشنسٹ کے درمیان ہونے والی مکمل کُفتگُو درجِ ذیل ہے۔

دی ایجوکیشنسٹ:۔پشاور سکول حملے کے المناک واقعہ میں 134بچے شہید ہوئے اورمزید دہشت گردی کی انٹیلی جنس رپورٹوں کے باعث جامعات و دیگر تعلیمی ادارے بند کر دئیے گئے ۔دہشت گردوں نے تعلیمی اداروں پر حملہ کر کے کیا پیغام دینا چاہا اور اس کا جواب کیا ہونا چاہئے؟
ڈاکٹر مجاہد کامران :۔ دیکھیں یہ ایک انتہائی المناک واقعہ ہے اس قسم کی درندگی کی مثال میرے ہوش میں نہیں ملتی ۔ بچوں کو چُن چُن کر اس طرح ہلاک کیا گیا اورخواتین ٹیچرز کو جلایا گیا۔دہشت گرد تو یہی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کاروبار زندگی بند ہوجائے اور لوگ خود کو، بالخصوص اپنے بچوں کو غیر محفوظ سمجھیں ۔چونکہ اس دہشت گردی کے بعد کچھ سزاؤں پر عملدرآمد ہواتو شاید اس کے پیشِ نظر احتیاطاً تعلیمی ادارے بند کئے گئے ہیں۔لیکن تعلیمی ادارے بالآخر کھلنے ہی ہیں اور زندگی نے نارمل صورتحال اختیار کرنی ہے۔ ہمیں ان سے بالکل نہیں گھبرانا چاہئے اور نہ ہی ڈرنا چاہیے اور ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ اس میں غیر ملکی ہاتھ ہے اگرچہ آلہ کار ہمارے اپنے ہی ملک کے لوگ ہوتے ہیں۔

دی ایجوکیشنسٹ:۔ تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کے حوالے سے اساتذہ کس طرح کردار ادا کرسکتے ہیں۔ بالخصوص جامعہ پنجاب کے اساتذہ کو کیا طرزِ عمل اپنانا چاہئے؟
ڈاکٹر مجاہد کامران:۔اس کے دو پہلو ہیں، ایک تو ذہنی پہلو ہے دوسرا احتیاطی تدابیر۔ ایک ذہنی رجحان ہے جو بالآخرلوگوں کو دہشت گردی کی طرف لے جاتا ہے اور طالبعلم بسا اوقات نظریاتی بہکاوے میں آکر وہ حد عبور کر لیتے ہیں جو ایک قانون کے پابند شہری اور دہشت گر د کو علیحدہ کرتی ہے۔ تو باقی اساتذہ کو خود بھی چوکس رہنا چاہئے اور طلبہ ؤ طالبات کو بھی ہدایات دیتے رہنا چاہیے کہ وہ چوکس رہیں۔ ہاسٹلوں میں بھی جو اساتذہ ہیں ان کو اپنا فرض پوری طرح ادا کرنا چاہیے۔ انہیں ہاسٹلوں کے مستقل راؤنڈ لگانے چاہیے اور جو عملہ ان کے ماتحت ہے اس پہ بھی نظر رکھنی چاہیے اور طلباء کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا چاہیے۔ البتہ پنجاب یونیورسٹی جس طرح سے بنی ہوئی ہے نہ اس کی چار دیواری کی جا سکتی ہے اور نہ ہی یہ مناسب ہے ۔ لہٰذا پنجاب یونیورسٹی میں زیادہ انحصار ہمیں سیکیورٹی پیٹرولنگ اور یونیورسٹی کے اندر عملے کے چوکس رہنے پر کرنا ہوگاباقی دروازوں پر علیحدہ علیحدہ انٹری و ایگزٹ پر عمل اور معمول کے اقدامات تو ہو ہی رہے ہیں۔

دی ایجوکیشنسٹ:۔جناب! حکومت نے کہا ہے کہ 10فیصد مدرسے ایسے ہیں جہاں طالب علموں کو دہشت گرد بنائے جانے کا خدشہ موجود ہے ۔ ایسے طالبعلموں کی ڈی بریفنگ میں اساتذہ کیا کردا ر ادا کرسکتے ہیں؟
ڈاکٹر مجاہد کامران:۔ میں نے اسی لئے پہلے کہا کہ ان کی ذہنی تربیت بہت ضروری ہے اور اسلام کا صحیح رخ لوگوں کے سامنے رکھنا چاہیے اور پھر اس تمام خلفشار کا جو اثر ہے ایک اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کی اپنی طاقت ،اور یہ کہ کون کون سی قوتیں صفِ آراء ہیں جو پاکستان کے خلاف ہیں ۔ اس کا بھی لوگوں کو بتانا چاہیے ۔ہماری اپنی کیا خامیاں ہیں جنہیں ہم خود دور کر سکتے ہیں ان پر کام کرنا ہوگا۔ بالآخر آپ کو ایک ہی تعلیمی نظام اختیا ر کرنا پڑے گا۔پاکستان بننے سے اب تک تمام حکومتوں نے شعبہ تعلیم کو نظر انداز کیا ہوا ہے اور ہمیں اتنامہنگا پڑ اہے کہ ابھی لوگوں کو اندازہ نہیں ہواکہ پاکستان جو قیمت ادا کر رہا ہے وہ اسی بات کی کر رہا ہے کیونکہ یہاں مختلف قسم کے نظام چل رہے ہیں۔ ایک نظامِ تعلیم کے تحت پڑھے ہوئے بچے دوسرے نظامِ تعلیم کے تحت پڑھے بچوں سے بات چیت بھی نہیں کر سکتے ان کی دنیائیں اور ذہنی ماحول ہی الگ ہیں۔ جو مدرسہ کا بچہ ہے اور جو O-Level کا بچہ ہے ان کے درمیان بڑی خلیج ہے ۔ اس کو عبور کرنے کے لئے ایک ہی تعلیمی نظام اختیار کرناپڑے گااور ایک ہی نصاب ہونا چاہیئے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ بڑا المیہ ہوا کہ اٹھارہویں ترمیم میں نصابات صوبوں کے حوالے کر دئیے گئے ہیں۔ یہ بڑا خطرناک عزم ہے جو ہمیں شکست دریخ کی طرف لے کر جا سکتا ہے ۔ اس پر نظر ثانی ہونی چاہیے نصاب ایک سطح تک یکساں ہونا چاہیے۔

دی ایجوکیشنسٹ:۔ اکتوبر 2014ء میں پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن آرڈیننس آیا جس کی تشکیل میں بیوروکریسی اور سیاسی اثرو رسوخ بڑا واضح ہے ۔ اساتذہ کی طرف سے شدید غم و غصے اورخدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ آپ صوبائی HECکو کس طرح دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹر مجاہد کامران:۔ دیکھیں جی !میں تو صوبائی HECبنائے جانے کے حق میں نہیں ہوں ، نہیں تھا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ صوبوں میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ یونیورسٹیوں کو چلا سکیں۔ جب وفاق کی سطح پر ہائر ایجوکیشن کمیشن موجود ہے تو ہمیں بیوروکریسی سے کوئی بات کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ تمام رکاوٹیں، لین دین کے معاملات، مشکلات وغیر ہ ساری ایک سطح پر حل ہوجاتی ہیں اور تمام یونیورسٹیوں کو اپنی اپنی گرانٹ مل جاتی ہے ۔ اب ہر صوبے میں اپنی اپنی بیوروکریسی ہوگی اوروفاقی بیورو کریسی صوبائی بیورو کریسی سے بہتر ہے کیونکہ وفاقی بیوروکریسی میں پہنچتے پہنچتے افسران کا ذہن زیادہ کشادہ ہو جاتا ہے۔اس سے بہت نقصان ہوگا اور پھر نصابات صوبوں کے حوالے کردیناایک خطرناک قدم ہے۔
دی ایجوکیشنسٹ:۔سال 2008 سے آپکی فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام پر خصوصی توجہ رہی ہے۔ اس ضمن میں کیا کاوشیں رہیں اور اب کیا فرق یا ڈویلپمنٹ محسوس کرتے ہیں؟
ڈاکٹر مجاہدکامران :۔ فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے لئے 750 کروڑ فنڈ مختص کئے گئے۔ یونیورسٹی کی اپنی آمدن سے 65 کے قریب اساتذہ نے پی ایچ ڈی کی جبکہ HEC سکالرشپ پر 50سے40 لوگوں نے پی ایچ ڈی کی ۔ان میں سے اکثر اساتذہ واپس آچکے ہیں اوراس سے ہمارے پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ۔ یہ تعداد اب 500 کے قریب ہے ۔

دی ایجوکیشنسٹ:۔ نجی جامعات اور کچھ سرکاری جامعات میں پروگرام کو آرڈینیٹر اور شام کی کلاسوں کے پیسے زیادہ ہیں جس کی وجہ سے اساتذہ پرائیویٹ یونیورسٹییوں میں پڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ آپ کی کیا رائے ہے؟
ڈاکٹر مجاہدکامران :۔ اگر ہم پیسے بڑھا دیں تو ہمیں شام کے طلبہ کی فیسوں میں اضافہ کرنا پڑے گا۔ کیونکہ پیسے ایوننگ کلاسسز کی آمدن سے دیئے جاتے ہیں اور اگر فیسوں میں اضافہ کر دیا گیا تو کم آمدن والے طلباء زیور تعلیم سے محروم ہو جائیں گے۔

دی ایجوکیشنسٹ:۔ پنجاب یونیورسٹی ایمپلائز ہاؤنسنگ سوسائٹی ٹاؤن IIمیں پلاٹوں کے قبضے اور نوجوان اساتذہ کے لئے آپ کی جانب سے کسی نئی سکیم کا اعلان کب متوقع ہے؟
ڈاکٹر مجاہد کامران:۔ ٹاؤن IIکا قبضہ ہم رواں ماہ میں ہی دے دیں گے۔ تاخیر ضرور ہوئی کیونکہ پنجاب یونیورسٹی کو 2002ء میں اراضی ملی اور جب میں نے 2008ء میں وائس چانسلر کے عہدے کا چارج سنھالا تو اس پر کوئی بھی کام نہیں ہوا تھا اور شکایات کے انبار تھے۔ تاخیر ضرور ہوئی لیکن لینڈ مینجمنٹ کمیٹی (LMC)اس کے معاملات کو چلا رہی ہے۔ اب گزشتہ چند ماہ سے میں خود اس کو دیکھ رہا ہوں۔ پانچ ماہ اس لئے ضائع ہوئے کیونکہ نٹ بولٹ بنانے والی فیکٹری نے تاخیر کی ، پھر بارشیں شروع ہوگئیں ، پانی آگیا۔جلد ہی بجلی کا کام بھی مکمل ہو جائے گا اور پھر ٹاؤن IIکے پلاٹوں کا قبضہ جلد مالکان کو دے دیا جائے گا۔ جہاں تک نئے اساتذہ کے لئے ہاؤسنگ سوسائٹی کی بات ہے تو اس سلسلے میں ASAاپنی کاوشیں کر رہی تھی بلکہ انہوں نے کوئی زمین بھی منتخب کر لی تھی لیکن اس کا کوئی مسئلہ بتایا گیا ۔اس ضمن میںASAکو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور ہم (انتظامیہ )بھی اپنا رول ادا کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی اساتذہ اور ملازمین کی رہائش کے لئے چوبیس چوبیس فلیٹ تعمیر کروائے جا چکے ہیں جن کی تعداد سڑک کی آمدنی سے ایک سال میں 100بھی ہو سکتی ہے۔مسئلہ پیسوں کی کمی کا ہے۔

دی ایجوکیشنسٹ:۔ اگرچہ جامعہ پنجاب کی رینکنگ میں کچھ اضافہ ہوا ہے تاہم اس ضمن میں ابھی خصوصی اقدامات درکار ہیں ۔یونیورسٹی کی رینکنگ کس طرح مزید بہتر ہوسکتی ہے؟
ڈاکٹر مجاہد کامران :۔ بین الاقوامی ریسرچ پبلیکیشنز اور پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد میں اضافہ سے یونیورسٹی کی رینکنگ کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔جس کے لئے موجودہ انتظامیہ اپنا کردار بخوبی اداکر رہی ہے 2010ء میں پنجاب یونیورسٹی اساتذہ کی تعداد 750تھی اور پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد 29فیصد تھی جبکہ اب یہ تعدادبڑھ کر 1110ہو گئی ہے اور پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد 44.5فیصد ہوگئی ہے جس سے موجودہ انتظامیہ کی تعلیم کے فروغ میں دلچسپی واضح ہے۔

دی ایجوکیشنسٹ:۔ صدر شعبہ جات اکثر اوقات اساتذہ کے جائز مطالبات اور ترقی وغیرہ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کا اثر جامعہ کیOverallکارکردگی پر ہوتا ہے ۔ اس ضمن میں میرٹ کی بحالی کے لئے آپ کی انتظامیہ نے کیا اقدامات اٹھائے؟
ڈاکٹر مجاہد کامران:۔ اگر کسی استاد کو صدر شعبہ یا ڈائریکٹر سے کوئی مسئلہ ہے تو انہیں یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق فیکلٹی ڈین سے رابطہ کرنا چاہیے اور اکثر ایسا ہو بھی جاتا ہے۔کبھی میری نظر میں ایسی کوئی بات آجائے تو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں ۔ یونیورسٹی میں ہر چیز ڈنڈے سے نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ اساتذہ ہیں بہت سے کام سمجھا بجھا کر بھی ہو جاتے ہیں۔

دی ایجوکیشنسٹ:۔ اگرچہ مجموعی طورپر پنجاب یونیورسٹی اساتذہ کی کمیونٹی آپ کو بہت پسند کرتی ہے اور آپ کے ویژن کی قائل ہے ، مگر کچھ اساتذہ آپ سے نالاں بھی ہیں اسکی وجہ کیا ہے؟
ڈاکٹر مجاہد کامران:۔ دیکھیں اس وقت تو بظاہر جو نالاں ہیں وہی لوگ ہیں جو چند برسوں سے یونیورسٹی کی ہر کمیٹی میں موجود تھے۔ مختلف کمیٹیوں میں انہوں نے اپنی ذمہ داری نبھانے میں انصاف نہیں کیا، بلکہ نقصان کیا۔ نالاں ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ انہوں نے (مولانا شوکت علی )سڑک کے معاملے پر دروغ گوئی کی۔ حکومتی نمائندگان و دیگر میٹنگز میں میں ان کو ساتھ لے کر جاتا تھا ۔ ان کو اگر کوئی مسئلہ تھا تو اُن سے بات کر لیتے یا مجھ سے بات کرتے ۔ لیکن انہوں نے اس کی آڑ میں سیاست کی ہے ۔ ان کا کردار انتظامیہ پر عیاں ہو گیا ہے ۔ انہوں نے منفی سیاست کی ہے ۔

دی ایجوکیشنسٹ:۔ آئندہ سالوں میں جامعہ پنجاب اور یونیورسٹی اساتذہ کی بہتری کے لئے کیا اقدامات اٹھانے چاہیے ؟
ڈاکٹر مجاہد کامران:۔ گرایجوئیٹ طلبہ اور پی ایچ ڈی اساتذہ کا تناسب بہتری ہونا چاہیے ۔ دنیا کی تمام معروف جامعات میں یہ تناسب 30سے 40فیصد ہے جبکہ ہمارے یہا ں یہ ابھی بھی 3800طلبہ۔۔۔۔۔اور اساتذہ کی تربیت کا بھی ایک سلسلہ ہونا چاہیے ہمارے ملک مین جس طرح دیگرپیشوں میں بشمول فوجی افسران، سول افسران کی تربیت کے کوئی نہ کوئی سلسلے چلتے رہتے ہیں ہمارے یہاں بھی کوئی تربیتی پروگرام چلتے رہنے چاہیے۔ اس کے علاوہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یونیورسٹی کے پاس اگر پیسے آجائیں تو یونیورسٹی خود بھی پوسٹ ڈاکٹریٹ اسکالرشپ دے سکتی ہے۔ باہر جانے کے لئے بھی اور یہاں کے لئے بھی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اساتذہ کے لئے جامعہ میں رہائشی سہولتوں میں اضافہ کریں ۔ کیونکہ رہائشی سہولتوں کے بغیر ہم اپنے ریسرچرز کو صحیح طرح استعمال نہیں کر سکتے ۔ اگر ان کا زیادہ وقت آنے جانے اور سکول سے بچے اٹھانے میں ہی لگ جائے گا تو پھر بڑا مشکل ہو جائے گا۔

Comment Using Facebook