کتب بینی کے شوق کو پروان چڑھانے کیلئے کتابوں کی گھر گھر رسائی ہونے چاہیے،ڈاکٹر مجاہد کامران

کتب بینی کے شوق کو پروان چڑھانے کیلئے کتابوں کی گھر گھر رسائی ہونے چاہیے،ڈاکٹر مجاہد کامران
June 09 13:53 2016 Print This Article

لاہور (22 اپریل،جمعہ):وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا ہے کہ کتابیں انسان میں سوچ ،سمجھ اور سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی صلاحیت کو بیدار کرتی ہیں اور اگر کتاب کا مطالعہ ترک کر دیا جائے تو ذہن بھی کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹ آف انفارمیشن مینجمنٹ کے زیر اہتمام پنجاب یونیورسٹی لائبریری اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کے اشتراک سے ورلڈ بک اینڈ کاپی رائٹ ڈے کے موقع پرالرازی ہال میں My Books, Myself and My Personalityکے موضوع پرمنعقدہ سیمینارمیں شرکا ء سے کیا۔ bookuuuuuاس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیشنل بک فاؤنڈیشن نزہت اکبر، ، معروف کالم نگار سجاد میر،مصنف، سکالر اور شاعرو پروفیسر ایمریطس پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا، چیئرپرسن شعبہ انفارمیشن مینجمنٹ پروفیسر ڈاکٹر کنول امین، چیف لائبیریرین حسیب احمد پراچہ ، فیکلٹی ممبران ، لائیبریرینز اور طلباء طالبات کی بڑی تعدا د نے شرکت کی ۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا کہ قرآن کریم میں متعدد مرتبہ کائنات کے رازوں بارے تدبر و تفکر اور علم حاصل کرنے کی تلقین کی گئی ہے جسے نظر انداز کرکے ہم اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتب بینی کے شوق کو فروغ دینے کیلئے کتابوں کی گھر گھر رسائی ہونی چاہیے تاکہ بچپن سے کتابیں پڑھنے کی عادات اپنائی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مطالعے کی عادات کو اپنائے بغیر معاشرے میں اچھے ڈاکٹر، استاد، انجینئر ، کھلاڑی پیدا نہیں کئے جاسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ میں مطالعے کی عادات کو فروغ دینے کیلئے ضروری ہے کہ اساتذہ کو خود بھی کتب بینی کا شوق ہو۔ انہوں نے کہا کہ بہتر لکھاری بھی وہی بنتا ہے جو زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرتا ہو۔ انہوں نے بہترین تقریب کے انعقاد پر منتظمین کو مبارک باد پیش کی۔سینئر کالم نگار و صحافی سجاد میر نے کہا کہ ہمیں مصروف وقت کا زیادہ حصہ کتابوں میں گزارنا چاہیے کیونکہ کتاب کے مطالعہ سے ہی کتب بینی کا شوق پروان چڑھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان میں کتابوں کی دکانوں سے دنیا کی بہترین تصانیف ملتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کتابوں کا تحفہ صرف علم باٹنا ہی نہیں بلکہ خوشیاں باٹنا بھی ہے۔ پروفیسر ایمریطس ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا نے کہا کہ ملک میں بڑھتی آبادی کے ساتھ کتاب پڑھنے والوں کا تناسب کم ہوا ہے کیونکہ ہم ہر کام میں شارٹ کٹ اپنانے کے شوقین بن چکے ہیں جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباًنوے فیصد طلبہ اس بات کو مانتے ہیں کہ وہ کتابیں نہیں پڑھتے اس کے برعکس قیام پاکستان سے پہلے علامہ اقبال، مولانہ ظفر علی خان، مولانہ محمد علی جوہر اور پاکستان بننے کے بعد کئی نامور دانشور پیدا ہوئے جنہوں نے مطالعے کی عادات اپناتے ہوئے اپنا نام و مقام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کتب خانوں میں جانے والوں کی تعداد کم رہ گئی ہے جبکہ اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک میں لوگ بسوں، ریل کاروں، ہوائی جہازوں، انتظار گاہوں سمیت ہرجگہ کوئی نہ کوئی کتاب ہاتھ میں تھامے پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ہر طرح کے بحران سے نکالنے کیلئے تعلیم کو فروغ بہت ضروری ہے جس کے لئے تعلیمی درسگاہوں میں کتب بینی کا رجحان بڑھانا ہوگا۔ پروفیسر ڈاکٹر کنول امین نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے کتاب علم کو پھیلانے کا اہم ذریعہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کتابوں کی اشاعت کی تعداد ترقی یافتہ ممالک میں شائع کتب کے مقابلے میں بہت کم ہے باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ کردار سازی میں کتابوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ بچوں کو گھروں اور سکولوں کی سطح پر کتب بینی کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔ قبل ازیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیشنل بک فاؤنڈیشن نزہت اکبر نے کتاب بینی کی عادات کو اپناے بارے تمام شرکاء سے حلف لیا۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی لائبیریری میں زیادہ کتابوں کا مطالعہ کرنے کیلئے آنے والے پہلے دس کتب بینوں کو بک لورز ایوارڈ 2016ء سے نوازا گیا جنہیں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران نے کتابوں کے تحائف دیئے۔

Comment Using Facebook

  Categories: