Updates
Home / Interview / ہمارا تعلیمی نظام تقسیم در تقسیم ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر جمیل انور

ہمارا تعلیمی نظام تقسیم در تقسیم ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر جمیل انور

Dr Jamil
فرنچائز کیمپس کھلنے سے پیسہ آگے ہے اور تعلیم پیچھے رہ گئی ہے۔’’ہم خوش قسمت زمین پر بد قسمت قوم ہیں ‘‘ گریژن یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا انٹرویو شبیر سرور
پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری ساری صنعت ادھار کی ٹیکنالوجی پر چل رہی ہے۔ ہم اپنے مسائل پر اپلائیڈ تحقیق نہیں کر رہے۔ ہمارے 10بڑے طریقوں سے بجلی پیدا ہونے کے وسائل موجود ہیں۔ لیکن ہم ’’خوش قسمت زمین پر بدقسمت ترین قوم ‘‘ ہیں۔ تعلیمی نظام تقسیم در تقسیم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ مدرسوں میں سائنس بھی پڑھانی چاہئے۔ استاد کی سلیکشن 10منٹ کی بجائے 5سال میں بتدریج ہونی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار لاہور گریژن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جمیل انور نے دی ایجوکیشنسٹ کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ ذیل میں گفتگو کے اقتباسات کی تفصیل درج ہے۔
دی ایجوکیشنسٹ: ڈاکٹر صاحب سب سے پہلے ہمیں اپنی ابتدائی زندگی تعلیم اور ذمہ داریوں کے بارے میں بتائیں۔
ڈاکٹر جمیل انور: میری پیدائش 1951میں گجرات میں ہوئی۔ وزیر آباد کے سکول میں پڑھا۔ والد صاحب ریلوے ملازم تھے۔ انکی ٹرانسفر کی وجہ سے لاہور آنا جانا رہتا تھا۔ بی ایس سی زمیندار ڈگری کالج سے کی۔ ایم ایس سی 1973میں کیمسٹری میں پنجاب یونیورسٹی سے کی۔ اُس زمانے میں قانون تھا کہ اگر یونیورسٹی ہولڈر ہوں اور کوئی آسامی خالی ہو تو ملازمت اختیار کر لیں۔ میری تیسری پوزیشن تھی اور Organic Sectionمیں اول پوزیشن تھی۔ لہٰذا 1973میں پنجاب یونیورسٹی میں لیکچرار تعینات ہوا اور 1979میں سکالرشپ ملا، ایپر ڈین یونیورسٹی سکاٹ لینڈ میں پی ایچ ڈی کے لئے گیا۔ وہاں ڈاکٹر RH Armatکیلئے کام کرنے کا موقع ملا۔ 1982میں واپس آیا اور پھر 1989 میں امریکہ میں یونیورسٹی آف فلوریڈا میں ڈیڑھ سال لیزر سیکیورٹی پر کام کیا۔ وہاں میرے تحقیقی مقالے بھی چھپے 1985میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہوا اور 1995 میں پروفیسر ہوا جبکہ 2002بطور ڈائریکٹر کیمسٹری اور2007میں ڈین فیکلٹی آف سائنسز ذمہ داری نبھائی۔ پھر 2009میں پرووائس چانسلر کی ذمہ داری ملی اور اسی پوسٹ پر جنوری 2011میں یونیورسٹی میں 40سال عرصہ گزارنے کے بعد ریٹائرڈ ہوا۔ اگر طالب علمی کا زمانہ بھی شامل کر لیا جائے تو میں 1970 سے 2011تک جامعہ پنجاب میں رہا۔
دی ایجوکیشنسٹ: ہمارے قارئین کو اپنی نمایاں کامیابیوں کے بارے میں بھی بتائیں۔
ڈاکٹر جمیل انور: میرے 215تحقیقی مقالہ جات چھپے، 15طلبہ کوپی ایچ ڈی کروائی۔ 80کو ایم فل جبکہ تقریباً 400طلبہ کو ایم ایس سی کی تحقیق کروائی۔ 2004میں HECکی طرف سے Best Teacher Award ملا۔ 2013ء میں لائف اچیومنٹ ایوارڈ ملا۔ حکومت پنجاب سے بھی بیسٹ ٹیچر ایوارڈ ملا۔ 13سے 14کروڑ کے خرچے سے لائبریری ڈبل کی۔ نئی لیبارٹریاں اور کمپیوٹر لیب قائم کیں۔ تا کہ طلبہ تحقیق کر سکیں۔ 2006انٹر نیشنل کیمسٹری کانفرنس کروائی۔ اس وقت HEJکراچی کو چھوڑ کر ادارہ کیمسٹری جامعہ پنجاب کا سب سے بڑا کیمسٹری کا ادارہ ہے۔ پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد کو8سے بڑھا کر 25کیا۔ تحقیقی کلچر کو فروغ دیا۔ Undergraduateکا شعبہ شروع کرایا۔ پھر یہی ہمارا ماڈل BZUملتان اور دیگر جامعات نے اپنایا۔
چیئرمین ایڈمشن کمیٹی بھی رہا اس کے علاوہ شعبہ سپورٹس، یونیورسٹی لینڈ کمیٹی کا سربراہ بھی رہا۔ سینٹ، سنڈیکٹ کا ممبر بھی رہا۔
دی ایجوکیشنسٹ: آپ کی نمایاں کتب کون کون سی ہیں؟
ڈاکٹر جمیل انور: میں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کیلئے11کتب ، پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کیلئے کتابیں لکھیں۔ میری کتابیں ’’جدید کیمیا کے بانی‘‘ ’’ایٹم بم تصور سے حقیقت تک‘‘ اور ’’طبیعات دانوں کے بارے میں‘‘ ہیں۔
دی ایجوکیشنسٹ: لاہور گریژن یونیورسٹی میں آپ نے کیا اقدامات کئے؟
ڈاکٹر جمیل انور: جب میں پنجاب یونیورسٹی سے ریٹائیرڈ ہوا تو میرے پاس دو تین آپشن تھے لیکن میں نے گریژن یونیورسٹی کی ذمہ داری دو وجوہات کی بنیاد پر سنبھالی۔ ایک یہ کہ میں لاہور میں رہنا چاہتا تھا اور دوسرا یہ کہ بنیادی طور پر گریژن کے دو کالج تھے ایک نشاط کالونی میں لڑکوں کا کالج اور دوسرا طفیل روڈ پر لڑکیوں کا کالج،جنرل یحییٰ کور کمانڈرلاہور چاہتے تھے کہ دونوں کو ملایا جائے اور باقاعدہ یونیورسٹی کی شکل دی جائے۔ لہٰذا یہ ایک چیلنج تھا کہ Zeroسے یونیورسٹی کی بنیاد رکھی جائے۔ لیبارٹریاں بنائی جائیں۔ Statuesلکھے جائیں۔ بہر حال میں نے یہ چیلنج قبول کر لیا۔
آج لاہور گریژن یونیورسٹی میں 20شعبہ جات میں 3775طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اساتذہ کی تعداد200کے قریب ہے، 12شعبہ جات میں بی ایس پروگرام، 10میں ایم اے پروگرام اور7شعبہ جات میں ایم فل پروگرام جاری ہیں۔ یونیورسٹی ابھی Transitionکی حالت میں ہے، ہم ہر لمحہ بہتری اور ترقی کی طرف گامزن ہیں۔ گزشتہ سال ہماری 16پبلیکیشنز تھیں۔ ہمارے بورڈ آف سٹیڈیز، اکیڈمک کونسل قائم ہو چکے ہیں اور ہمارے بورڈ آف گورنر کے چیئرمین کور کمانڈر ہیں۔
دی ایجوکیشنسٹ: لاہور گریژن یونیورسٹی کی ترجیحات کیا ہیں؟
نظم و ضبط، اچھے طور طریقے، اخلاقیات، تربیت اور تعلیم ، ہم کوشش کرتے ہیں کہ ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ میں اچھی صحت مندانہ سرگرمیوں کو فروغ دیں اور انکے کردار کی تعمیر کریں۔ ہم باقاعدگی سے سیمینار بھی کروا رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں مختلف پروگراموں میں عطاالحق قاسمی، جنرل محمود ، ڈاکٹر رفیق اور ظہیر حامد نے شرکت کی۔
دی ایجوکیشنسٹ: جناب ڈاکٹر صاحب اپنی فیملی ، بچوں کے بارے میں بھی بتائیں۔
ڈاکٹر جمیل انور: میرے چار بچے ہیں۔ سب سے بڑا بیٹا ریحان انور کیمیکل انجینئر ہے۔ وہ Shumberger oil firmمیں کام کرتا ہے۔ اُس کے بچے کینیڈا میں ہیں اور وہاں کی اُسے امیگریشن مل گئی ہے۔ میری بیٹی نادیہ جمیل پنجاب یونیورسٹی سنٹر فار ارتھ اینڈ انوارنمینٹل سائنسز میں اسسٹنٹ پروفیسر ہے۔ تیسری بیٹی ڈاکٹر نور عاصم جیالوجی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہے۔MBAکیا اور شادی کے بعد کینیڈا میں رہائش پذیر ہے۔ سب سے چھوٹی بیٹی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ربیہ جمیل عنایت میڈیکل کالج میں پڑھا رہی ہے۔
دی ایجوکیشنسٹ: بیگم جمیل صاحبہ کے بارے میں کیا کہیں گے؟
ڈاکٹر جمیل انور: بیگم صاحبہ گریجوایٹ ہیں لیکن ہاؤس وائف ہیں۔ بچوں کی تعلیم اور اخلاق کی 100%ذمہ داری بیگم صاحبہ نے بطریق احسن نبھائی ۔ اُن کی وجہ سے مجھے گھر کے کاموں سے فراغت ملی رہی۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم میاں بیوی والا باہمی اتحادو اتفاق میں برکت ہے۔ ہمارا تعلق مثالی ہے۔
دی ایجوکیشنسٹ: موجودہ تعلیمی نظام کو کیسے دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹر جمیل انور: موجودہ نظامِ تعلیم تقسیم در تقسیم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کلاس سسٹم ہم خود پیدا کر رہے ہیں۔ مدرسے، ایچی سن کالج ، کیڈٹ کالج، سرکاری، BNU، LGSنئی کلاسیس پیدا ہو رہی ہیں۔ یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ادارے یک رنگ ہوں۔ ہزاروں سکولوں میں واش روم نہیں، کرسیاں نہیں، چاردیواری نہیں، یونیورسٹی تعلیم کی بنیاد پرائمری تعلیم ہے۔ بچہ سکول سے کالج اور یونیورسٹی میں آتا ہے۔ جب تک عمارت کی بنیاد ٹھیک نہ ہو عمارت ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ پرائمری سرکاری سکول ہماری بنیاد ہیں اور وہاں سب سے بڑی سہولت اچھا استاد ہے۔ اساتذہ کو رہائش کی بہتر سہولت ملنی چاہئے ۔بچہ ماں کی گود چھوڑ کر سب سے پہلے ٹیچر کے پاس جاتا ہے۔ لہٰذا چار سال سے 10سال کی عمر تک پرائمری تعلیم پر فوکس کیا جائے۔
دی ایجوکیشنسٹ: یونیورسٹی کے فرنچائز کیمپس کھل رہے ہیں کیا تعلیم برائے فروخت ہو رہی ہے؟
ڈاکٹر جمیل انور: فرنچائز کیمپس کھولنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن معیار اور سہولتیں وہی ہونی چاہیں جو مین کیمپس میں ہیں۔ لیکن یہ دیکھا جاتا ہے کہ بزنس ویجز بن گئے ہیں۔ پیسہ آگے ہے اور تعلیم پیچھے رہ گئی ہے۔ اب اساتذہ کالج میں صرف دو گھنٹے گزارتے ہیں، کالجوں میں تعلیم تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ ستمبر میں امتحان ہونا ہو تو مارچ میں طلباء کو فری کر دیا جاتا ہے۔ اساتذہ اکیڈمیوں میں پڑھا رہے ہیں سکول لیول پر پھر بھی مانیٹرنگ ہے لیکن کالجوں کی کوئی مانیٹرنگ نہیں۔ ہمارے یہاں پرائمری سے کالج تک اساتذہ کی سلیکشن پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ سلیکشن5سال میں ہونی چاہئے 10منٹ میں نہیں۔ 5سال میں سلیکشن کنفرم ہونے کے عمل میں ہر سال کی پروبیشن کے دوران استاد کے اخلاق، تحقیق اور تدریسی عمل کی جانچ ہونی چاہئے۔ 10منٹ میں 2سوال پوچھ کر استاد کا انتخاب کیسے ممکن ہے۔
دی ایجوکیشنسٹ: کیا تعلیمی اداروں میں سیاسی صورتحال بگاڑ کی اصل وجہ ہے؟
ڈاکٹر جمیل انور: چونکہ تعلیمی ادارے بھی ملک کا حصہ ہیں جہاں سیاست کا وائرس ریلوے، پی آئی اے اور دیگر ادارے ہیں وہاں تعلیم بھی ہے۔ اب تو ڈاکٹروں میں بھی سیاست ہے۔ اساتذہ سیاست میں آتے ہیں۔ ASAکے صدر اور سیکرٹری کہتے ہیں کیوں پڑھاؤں ! ہر نالائق استاد کی پشت پر سیاست اور یونین ہوتی ہے۔ہمارے ملک کا ایک بڑا مسئلہ ہے کہ ہم کبھی سسٹم ڈیزاین نہیں کرتے بلکہ سسٹم امپورٹ کرتے ہیں ٹیکس ، پارلیمانی، عدالتیں۔ وہ سسٹم اس لئے نہیں چلتے کیونکہ وہ ہمارے زمینی حقائق سے مماثلت نہیں رکھتے
دی ایجوکیشنسٹ: اٹھارویں ترمیم کے تحت ہر صوبے میں HECبن رہا ہے ، یہ فائدہ مند ہے یا نقصان دہ؟
ڈاکٹر جمیل انور: میرے خیال میں درمیانی راستہ موجود ہے۔ ایک سینٹرل HECضرور موجود رہنا چاہئے اس کا کام پالیسی بنانا ہو۔ سلیبس ایک ہی ہونا چاہئے۔ اسلام آباد میں بنے اور صوبوں میں لاگو ہو۔ اگر صوبائی HECکو مکمل آزاد کریں گے تو نتائج اچھے نہ ہوں گے، نصاب مختلف ہونے سے قوم تقسیم ہو جائے گی۔ ہمارے ہیرو بدل جائیں گے ۔ ایک صوبہ دوسرے صوبے کے بچوں کو داخلہ نہ دے گا۔ بہتر یہ ہے کہ سنٹرل HECپالیسی بنائے اور صوبائی HECکے سربراہان سنٹرل HECکے ممبر ہوں۔
دی ایجوکیشنسٹ: مدرسوں میں اصلاحات کیسے ہو سکتی ہیں؟
ڈاکٹر جمیل انور: مدرسوں میں سائنس کی تعلیم بھی دی جائے۔ استاد لگائے جائیں ایک اسٹینڈرڈ ڈگری ہو۔ ان کے نصاب کو لازمی دیکھا جائے جس طرح باقی اداروں کا نصاب تبدیل ہوتا ہے۔ اُن کا بھی تبدیل ہونا چاہئے۔
مدرسوں کے بچے 100%دہشت گردی میں ملوث نہیں لیکن ایسے بچوں کو ٹریپ کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ کیونکہ مدرسوں میں اکثر یتیم، لاوارث بچے، غریبوں کے بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔ وہ محرومیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ لہٰذا انھیں ذہنی طور پر ٹریپ کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اگر عام سکول سے موازنہ کیا جائے تو کوئی مدرسہ حکومت کی اجازت کے بغیر نہیں کھلنا چاہئے۔ وہاں پڑھانے والے کون ہیں ضلعی تعلیمی انتظامیہ کو اس کی نگرانی کی ذمہ دار بنایا جائے۔
دی ایجوکیشنسٹ: ہمارے ملک میں کیسی تحقیق ہو رہی ہے، فروغ کیسے ممکن ہے؟
ڈاکٹر جمیل انور: یونیورسٹیاں پاکستان سائنس فاونڈیشن HEC فنڈز دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بہت ساری تحقیق اپلائیڈ نہیں ہو رہی ۔ ایسی تحقیق ہونی چاہئے جو ہمارے ملک کیلئے مفید ہو بہت سارے ترقی یافتہ ممالک ہم سے پیسے لیکر ہمارے بچوں سے اپنے مسائل پر تحقیق کروا لیتے ہیں۔ اس وقت ہمارے ساری انڈسٹری ادھار کی ٹیکنالوجی (Borrowed Technology)پر چل رہی ہے۔ 10بڑے طریقوں سے پاکستان میں توانائی، بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ ہم خوش قسمت زمین پر بد قسمت ترین قوم ہیں ۔ یہاں تمام وسائل موجود ہیں۔ جو پی ایچ ڈی کر کے باہر سے واپس آئے اب انہیں ملازمت نہیں مل رہی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل کے حل کیلئے تحقیق نہیں کر رہے۔

ہمارا تعلیمی نظام تقسیم در تقسیم ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر جمیل انور
فرنچائز کیمپس کھلنے سے پیسہ آگے ہے اور تعلیم پیچھے رہ گئی ہے۔’’ہم خوش قسمت زمین پر بد قسمت قوم ہیں ‘‘ گریژن یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا انٹرویو
شبیر سرور
پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری ساری صنعت ادھار کی ٹیکنالوجی پر چل رہی ہے۔ ہم اپنے مسائل پر اپلائیڈ تحقیق نہیں کر رہے۔ ہمارے 10بڑے طریقوں سے بجلی پیدا ہونے کے وسائل موجود ہیں۔ لیکن ہم ’’خوش قسمت زمین پر بدقسمت ترین قوم ‘‘ ہیں۔ تعلیمی نظام تقسیم در تقسیم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ مدرسوں میں سائنس بھی پڑھانی چاہئے۔ استاد کی سلیکشن 10منٹ کی بجائے 5سال میں بتدریج ہونی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار لاہور گریژن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جمیل انور نے دی ایجوکیشنسٹ کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ ذیل میں گفتگو کے اقتباسات کی تفصیل درج ہے۔
دی ایجوکیشنسٹ: ڈاکٹر صاحب سب سے پہلے ہمیں اپنی ابتدائی زندگی تعلیم اور ذمہ داریوں کے بارے میں بتائیں۔
ڈاکٹر جمیل انور: میری پیدائش 1951میں گجرات میں ہوئی۔ وزیر آباد کے سکول میں پڑھا۔ والد صاحب ریلوے ملازم تھے۔ انکی ٹرانسفر کی وجہ سے لاہور آنا جانا رہتا تھا۔ بی ایس سی زمیندار ڈگری کالج سے کی۔ ایم ایس سی 1973میں کیمسٹری میں پنجاب یونیورسٹی سے کی۔ اُس زمانے میں قانون تھا کہ اگر یونیورسٹی ہولڈر ہوں اور کوئی آسامی خالی ہو تو ملازمت اختیار کر لیں۔ میری تیسری پوزیشن تھی اور Organic Sectionمیں اول پوزیشن تھی۔ لہٰذا 1973میں پنجاب یونیورسٹی میں لیکچرار تعینات ہوا اور 1979میں سکالرشپ ملا، ایپر ڈین یونیورسٹی سکاٹ لینڈ میں پی ایچ ڈی کے لئے گیا۔ وہاں ڈاکٹر RH Armatکیلئے کام کرنے کا موقع ملا۔ 1982میں واپس آیا اور پھر 1989 میں امریکہ میں یونیورسٹی آف فلوریڈا میں ڈیڑھ سال لیزر سیکیورٹی پر کام کیا۔ وہاں میرے تحقیقی مقالے بھی چھپے 1985میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہوا اور 1995 میں پروفیسر ہوا جبکہ 2002بطور ڈائریکٹر کیمسٹری اور2007میں ڈین فیکلٹی آف سائنسز ذمہ داری نبھائی۔ پھر 2009میں پرووائس چانسلر کی ذمہ داری ملی اور اسی پوسٹ پر جنوری 2011میں یونیورسٹی میں 40سال عرصہ گزارنے کے بعد ریٹائرڈ ہوا۔ اگر طالب علمی کا زمانہ بھی شامل کر لیا جائے تو میں 1970 سے 2011تک جامعہ پنجاب میں رہا۔
دی ایجوکیشنسٹ: ہمارے قارئین کو اپنی نمایاں کامیابیوں کے بارے میں بھی بتائیں۔
ڈاکٹر جمیل انور: میرے 215تحقیقی مقالہ جات چھپے، 15طلبہ کوپی ایچ ڈی کروائی۔ 80کو ایم فل جبکہ تقریباً 400طلبہ کو ایم ایس سی کی تحقیق کروائی۔ 2004میں HECکی طرف سے Best Teacher Award ملا۔ 2013ء میں لائف اچیومنٹ ایوارڈ ملا۔ حکومت پنجاب سے بھی بیسٹ ٹیچر ایوارڈ ملا۔ 13سے 14کروڑ کے خرچے سے لائبریری ڈبل کی۔ نئی لیبارٹریاں اور کمپیوٹر لیب قائم کیں۔ تا کہ طلبہ تحقیق کر سکیں۔ 2006انٹر نیشنل کیمسٹری کانفرنس کروائی۔ اس وقت HEJکراچی کو چھوڑ کر ادارہ کیمسٹری جامعہ پنجاب کا سب سے بڑا کیمسٹری کا ادارہ ہے۔ پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد کو8سے بڑھا کر 25کیا۔ تحقیقی کلچر کو فروغ دیا۔ Undergraduateکا شعبہ شروع کرایا۔ پھر یہی ہمارا ماڈل BZUملتان اور دیگر جامعات نے اپنایا۔
چیئرمین ایڈمشن کمیٹی بھی رہا اس کے علاوہ شعبہ سپورٹس، یونیورسٹی لینڈ کمیٹی کا سربراہ بھی رہا۔ سینٹ، سنڈیکٹ کا ممبر بھی رہا۔
دی ایجوکیشنسٹ: آپ کی نمایاں کتب کون کون سی ہیں؟
ڈاکٹر جمیل انور: میں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کیلئے11کتب ، پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کیلئے کتابیں لکھیں۔ میری کتابیں ’’جدید کیمیا کے بانی‘‘ ’’ایٹم بم تصور سے حقیقت تک‘‘ اور ’’طبیعات دانوں کے بارے میں‘‘ ہیں۔
دی ایجوکیشنسٹ: لاہور گریژن یونیورسٹی میں آپ نے کیا اقدامات کئے؟
ڈاکٹر جمیل انور: جب میں پنجاب یونیورسٹی سے ریٹائیرڈ ہوا تو میرے پاس دو تین آپشن تھے لیکن میں نے گریژن یونیورسٹی کی ذمہ داری دو وجوہات کی بنیاد پر سنبھالی۔ ایک یہ کہ میں لاہور میں رہنا چاہتا تھا اور دوسرا یہ کہ بنیادی طور پر گریژن کے دو کالج تھے ایک نشاط کالونی میں لڑکوں کا کالج اور دوسرا طفیل روڈ پر لڑکیوں کا کالج،جنرل یحییٰ کور کمانڈرلاہور چاہتے تھے کہ دونوں کو ملایا جائے اور باقاعدہ یونیورسٹی کی شکل دی جائے۔ لہٰذا یہ ایک چیلنج تھا کہ Zeroسے یونیورسٹی کی بنیاد رکھی جائے۔ لیبارٹریاں بنائی جائیں۔ Statuesلکھے جائیں۔ بہر حال میں نے یہ چیلنج قبول کر لیا۔
آج لاہور گریژن یونیورسٹی میں 20شعبہ جات میں 3775طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اساتذہ کی تعداد200کے قریب ہے، 12شعبہ جات میں بی ایس پروگرام، 10میں ایم اے پروگرام اور7شعبہ جات میں ایم فل پروگرام جاری ہیں۔ یونیورسٹی ابھی Transitionکی حالت میں ہے، ہم ہر لمحہ بہتری اور ترقی کی طرف گامزن ہیں۔ گزشتہ سال ہماری 16پبلیکیشنز تھیں۔ ہمارے بورڈ آف سٹیڈیز، اکیڈمک کونسل قائم ہو چکے ہیں اور ہمارے بورڈ آف گورنر کے چیئرمین کور کمانڈر ہیں۔
دی ایجوکیشنسٹ: لاہور گریژن یونیورسٹی کی ترجیحات کیا ہیں؟
نظم و ضبط، اچھے طور طریقے، اخلاقیات، تربیت اور تعلیم ، ہم کوشش کرتے ہیں کہ ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ میں اچھی صحت مندانہ سرگرمیوں کو فروغ دیں اور انکے کردار کی تعمیر کریں۔ ہم باقاعدگی سے سیمینار بھی کروا رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں مختلف پروگراموں میں عطاالحق قاسمی، جنرل محمود ، ڈاکٹر رفیق اور ظہیر حامد نے شرکت کی۔
دی ایجوکیشنسٹ: جناب ڈاکٹر صاحب اپنی فیملی ، بچوں کے بارے میں بھی بتائیں۔
ڈاکٹر جمیل انور: میرے چار بچے ہیں۔ سب سے بڑا بیٹا ریحان انور کیمیکل انجینئر ہے۔ وہ Shumberger oil firmمیں کام کرتا ہے۔ اُس کے بچے کینیڈا میں ہیں اور وہاں کی اُسے امیگریشن مل گئی ہے۔ میری بیٹی نادیہ جمیل پنجاب یونیورسٹی سنٹر فار ارتھ اینڈ انوارنمینٹل سائنسز میں اسسٹنٹ پروفیسر ہے۔ تیسری بیٹی ڈاکٹر نور عاصم جیالوجی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہے۔MBAکیا اور شادی کے بعد کینیڈا میں رہائش پذیر ہے۔ سب سے چھوٹی بیٹی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ربیہ جمیل عنایت میڈیکل کالج میں پڑھا رہی ہے۔
دی ایجوکیشنسٹ: بیگم جمیل صاحبہ کے بارے میں کیا کہیں گے؟
ڈاکٹر جمیل انور: بیگم صاحبہ گریجوایٹ ہیں لیکن ہاؤس وائف ہیں۔ بچوں کی تعلیم اور اخلاق کی 100%ذمہ داری بیگم صاحبہ نے بطریق احسن نبھائی ۔ اُن کی وجہ سے مجھے گھر کے کاموں سے فراغت ملی رہی۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم میاں بیوی والا باہمی اتحادو اتفاق میں برکت ہے۔ ہمارا تعلق مثالی ہے۔
دی ایجوکیشنسٹ: موجودہ تعلیمی نظام کو کیسے دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹر جمیل انور: موجودہ نظامِ تعلیم تقسیم در تقسیم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کلاس سسٹم ہم خود پیدا کر رہے ہیں۔ مدرسے، ایچی سن کالج ، کیڈٹ کالج، سرکاری، BNU، LGSنئی کلاسیس پیدا ہو رہی ہیں۔ یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ادارے یک رنگ ہوں۔ ہزاروں سکولوں میں واش روم نہیں، کرسیاں نہیں، چاردیواری نہیں، یونیورسٹی تعلیم کی بنیاد پرائمری تعلیم ہے۔ بچہ سکول سے کالج اور یونیورسٹی میں آتا ہے۔ جب تک عمارت کی بنیاد ٹھیک نہ ہو عمارت ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ پرائمری سرکاری سکول ہماری بنیاد ہیں اور وہاں سب سے بڑی سہولت اچھا استاد ہے۔ اساتذہ کو رہائش کی بہتر سہولت ملنی چاہئے ۔بچہ ماں کی گود چھوڑ کر سب سے پہلے ٹیچر کے پاس جاتا ہے۔ لہٰذا چار سال سے 10سال کی عمر تک پرائمری تعلیم پر فوکس کیا جائے۔
دی ایجوکیشنسٹ: یونیورسٹی کے فرنچائز کیمپس کھل رہے ہیں کیا تعلیم برائے فروخت ہو رہی ہے؟
ڈاکٹر جمیل انور: فرنچائز کیمپس کھولنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن معیار اور سہولتیں وہی ہونی چاہیں جو مین کیمپس میں ہیں۔ لیکن یہ دیکھا جاتا ہے کہ بزنس ویجز بن گئے ہیں۔ پیسہ آگے ہے اور تعلیم پیچھے رہ گئی ہے۔ اب اساتذہ کالج میں صرف دو گھنٹے گزارتے ہیں، کالجوں میں تعلیم تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ ستمبر میں امتحان ہونا ہو تو مارچ میں طلباء کو فری کر دیا جاتا ہے۔ اساتذہ اکیڈمیوں میں پڑھا رہے ہیں سکول لیول پر پھر بھی مانیٹرنگ ہے لیکن کالجوں کی کوئی مانیٹرنگ نہیں۔ ہمارے یہاں پرائمری سے کالج تک اساتذہ کی سلیکشن پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ سلیکشن5سال میں ہونی چاہئے 10منٹ میں نہیں۔ 5سال میں سلیکشن کنفرم ہونے کے عمل میں ہر سال کی پروبیشن کے دوران استاد کے اخلاق، تحقیق اور تدریسی عمل کی جانچ ہونی چاہئے۔ 10منٹ میں 2سوال پوچھ کر استاد کا انتخاب کیسے ممکن ہے۔
دی ایجوکیشنسٹ: کیا تعلیمی اداروں میں سیاسی صورتحال بگاڑ کی اصل وجہ ہے؟
ڈاکٹر جمیل انور: چونکہ تعلیمی ادارے بھی ملک کا حصہ ہیں جہاں سیاست کا وائرس ریلوے، پی آئی اے اور دیگر ادارے ہیں وہاں تعلیم بھی ہے۔ اب تو ڈاکٹروں میں بھی سیاست ہے۔ اساتذہ سیاست میں آتے ہیں۔ ASAکے صدر اور سیکرٹری کہتے ہیں کیوں پڑھاؤں ! ہر نالائق استاد کی پشت پر سیاست اور یونین ہوتی ہے۔ہمارے ملک کا ایک بڑا مسئلہ ہے کہ ہم کبھی سسٹم ڈیزاین نہیں کرتے بلکہ سسٹم امپورٹ کرتے ہیں ٹیکس ، پارلیمانی، عدالتیں۔ وہ سسٹم اس لئے نہیں چلتے کیونکہ وہ ہمارے زمینی حقائق سے مماثلت نہیں رکھتے
دی ایجوکیشنسٹ: اٹھارویں ترمیم کے تحت ہر صوبے میں HECبن رہا ہے ، یہ فائدہ مند ہے یا نقصان دہ؟
ڈاکٹر جمیل انور: میرے خیال میں درمیانی راستہ موجود ہے۔ ایک سینٹرل HECضرور موجود رہنا چاہئے اس کا کام پالیسی بنانا ہو۔ سلیبس ایک ہی ہونا چاہئے۔ اسلام آباد میں بنے اور صوبوں میں لاگو ہو۔ اگر صوبائی HECکو مکمل آزاد کریں گے تو نتائج اچھے نہ ہوں گے، نصاب مختلف ہونے سے قوم تقسیم ہو جائے گی۔ ہمارے ہیرو بدل جائیں گے ۔ ایک صوبہ دوسرے صوبے کے بچوں کو داخلہ نہ دے گا۔ بہتر یہ ہے کہ سنٹرل HECپالیسی بنائے اور صوبائی HECکے سربراہان سنٹرل HECکے ممبر ہوں۔
دی ایجوکیشنسٹ: مدرسوں میں اصلاحات کیسے ہو سکتی ہیں؟
ڈاکٹر جمیل انور: مدرسوں میں سائنس کی تعلیم بھی دی جائے۔ استاد لگائے جائیں ایک اسٹینڈرڈ ڈگری ہو۔ ان کے نصاب کو لازمی دیکھا جائے جس طرح باقی اداروں کا نصاب تبدیل ہوتا ہے۔ اُن کا بھی تبدیل ہونا چاہئے۔
مدرسوں کے بچے 100%دہشت گردی میں ملوث نہیں لیکن ایسے بچوں کو ٹریپ کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ کیونکہ مدرسوں میں اکثر یتیم، لاوارث بچے، غریبوں کے بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔ وہ محرومیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ لہٰذا انھیں ذہنی طور پر ٹریپ کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اگر عام سکول سے موازنہ کیا جائے تو کوئی مدرسہ حکومت کی اجازت کے بغیر نہیں کھلنا چاہئے۔ وہاں پڑھانے والے کون ہیں ضلعی تعلیمی انتظامیہ کو اس کی نگرانی کی ذمہ دار بنایا جائے۔
دی ایجوکیشنسٹ: ہمارے ملک میں کیسی تحقیق ہو رہی ہے، فروغ کیسے ممکن ہے؟
ڈاکٹر جمیل انور: یونیورسٹیاں پاکستان سائنس فاونڈیشن HEC فنڈز دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بہت ساری تحقیق اپلائیڈ نہیں ہو رہی ۔ ایسی تحقیق ہونی چاہئے جو ہمارے ملک کیلئے مفید ہو بہت سارے ترقی یافتہ ممالک ہم سے پیسے لیکر ہمارے بچوں سے اپنے مسائل پر تحقیق کروا لیتے ہیں۔ اس وقت ہمارے ساری انڈسٹری ادھار کی ٹیکنالوجی (Borrowed Technology)پر چل رہی ہے۔ 10بڑے طریقوں سے پاکستان میں توانائی، بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ ہم خوش قسمت زمین پر بد قسمت ترین قوم ہیں ۔ یہاں تمام وسائل موجود ہیں۔ جو پی ایچ ڈی کر کے باہر سے واپس آئے اب انہیں ملازمت نہیں مل رہی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل کے حل کیلئے تحقیق نہیں کر رہے۔

Comment Using Facebook

About Shabbir Sarwar

Check Also

An interview with a young Pakistani App Developer “Arusha Imtiaz”

Interview By Maimoona Hafeez Communication between parents, teachers and school administration is important for the …