Home / Urdu / ہم اپنے دشمن آپ

ہم اپنے دشمن آپ

OLYMPUS DIGITAL CAMERAزندگی اللہ تعالی کی کروڑ نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت ہے۔کوئی انسان یہ نہیں چاہتا کہ ا?س کے جینے کا حق ختم ہوجائے یا ختم (کر دیا) جائے۔بعض لوگ اپنی زندگی کے لئے فکر مند نہیں ہوتے۔فکر مند ہونے سے مراد یہ نہیں کہ ا?ن کو جینا اچھا نہیں لگتا۔بلکہ وہ اپنی معمولی سی بیماری کو معمولی ہی سمجھتے ہیں۔اور ا?س کو وقت پر چھوڑ دیتے ہیں کہ بیماری جیسے آئی ہے خود بخود ٹھیک بھی ہوجائے گی۔ایسے لوگ نفسیاتی الجھنوں سے مبراء4 ہوتے ہیں لیکن ان کی نسبت وہ لوگ جو(حساسیت) کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں جنہیں مزید مرض کی کوئی ضروت نہیں رہتی۔کیونکہ یہ واحد بیماری ہوتی ہے جو نفسیاتی الجھنوں میں الجھا کر رکھ دیتی ہے۔جس کو کوئی بیماری ہو نہ ہو ا?سے نہ چاہتے ہوئے بھی مریض بنادیتی ہے۔اکثر اوقات دیکھا جاتا ہے کہ معمولی نزلہ زکام کے لئے ڈاکٹر کے پاس رجوع کرلیا جاتا ہے اورپوری پریسکرپشن لکھوانے کے بعد ہی تسلی ہوتی ہے۔ایک شخص ڈاکٹر کے پاس گیاڈاکٹر نے چیک کیا کوئی بھی بیماری تشخیص نہیں ہوئی ڈاکٹر نے کہا آپ کے گلے میں معمولی خراش ہے جو غرارے،اور گلے کی گولی لینے سے ٹھیک ہوجائے گی۔وہ بضد رہا اور ڈاکٹر سے جھگڑنے لگا کہنے لگا کہ اگر آپ نے میری بیمارتشخیص نہ کی اور ا?س کی دوا نہ دی تو آپ میری موت کے ذمہ دار ہوں گے۔میری روح آپ کو تڑپائے گی۔ہر وقت آپ کا پیچھا کریگی آپ کو چین سے رہنے نہیں دے گی۔ڈاکٹر گھبرا گیا اور ا?س نے کہا میں آپ کو ٹیسٹ لکھ دیتا ہوں ا?س سے پتہ لگ جائے گا کہ آپ کو کوئی مہلک بیماری ٹی بی وغیرہ تو نہیں ہے غرضیکہ کوئی نہ کوئی بیماری تو ضرور ہونی چاہئے تاکہ پھر اس کا علاج کرایا جاسکے۔جب ڈینگی نیو کمر بنا اور اس نے پاکستان نامی سکول میں داخلہ لیا تو ہر فردجو قوم کی ملت کا ستارہ ہے ماند پڑنے لگا اور جس کو ڈینگی نہیں تھا وہ بھی اپنا ٹیسٹ کرانے لگا اور جن کو واقعی مریض کہا جاسکتا تھا ا?ن کے لئے بھی پریشانی بنی۔بعض لوگوں کی یہ سائیکی ہوتی ہے کہ ا?ن کا بس چلے تو ڈینگی سے یہ شکوہ کرنے لگیں کہ بھئی تم نے مجھے کیوں نہیں کاٹا چلو اب اچھے بچے کی طرح مجھے کاٹو تاکہ میں اپنا علاج کراؤں اور یہ اطمینان کرلوں کہ اب مجھے ڈینگی کاٹ چکا ہے اور میری رپورٹ مثبت آئی ہے۔کسی کا منہ سرخ ٹماٹر کی طرح قدرتی طور پر ہی لال کیوں نہ ہو ا?سے دیکھتے ہی لوگ کہنے لگتے ہیں یار تمہارا منہ آج ضرورت سے زیادہ لال کے ساتھ پیلا بھی ہو رہا ہے لہذا تمہیں اپنا بلیڈ پریشر چیک کرانا چاہئے۔وہ ہڑبڑاتا ہوا ہسپتال جاتا ہے اور ڈاکٹر کو کہتا ہے میرا منہ لال ہو رہا ہے آپ میرا بی پی چیک کردیں۔ڈاکٹر چیک کرنے سے پہلے ا?سے یہی تسلی دے رہا ہوتا ہے کہ آپ کا منہ ماشاء4 اللہ پیدائیشی طور پر ہی ٹماٹر جیسا سرخ ہے اس میں چنداں فکر کی بات نہیں۔لیکن جب معائنے سے اس کی تسکین ہوجاتی ہے تب بھی اس کا وہم بولنے لگتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کہیں آپ کے بی پی آپریٹس میں ہی کوئی گڑ بڑ نہ ہو گویا کہ مشین جھوٹ بول رہی ہو لیکن ان کا یہ دعوی درست ہوسکتا ہے کیونکہ ایک رشتے دار کے ساتھ مشین نے جھوٹ ہی بولا تھا۔وہ جب اپنا بی پی وہمانہ طور پر چیک کرانے گیا تو مشین نے ساری( سوئی ہی پھیلادی) کہنے کا مطلب ساری حدیں پار کردیں۔بعد میں پتہ چلا کہ مشین میں مسئلہ ہے پھر دوسرے آپریٹس سے جانچا گیا تو بی پی بالکل نارمل تھا۔ایسے طرز کے افراد اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے لئے بھی پریشانی کا سبب بنتے ہیں۔ماں کی حد تک تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ ماں اپنے بچے کی ہلکی سی چوٹ بھی بڑی محسوس کرتی ہے لیکن ہر کوئی اپنی ماں خود بن جائے گا اس کا اندازہ نہیں تھا۔ایسے اللہ کے بندے بھی پائے جاتے ہیں جن کو سر کا در ہو رہا ہو اور بھاگے بھاگے ہسپتال پہنچ جاتے ہیں اور کہتے ہیں سر درد کا کچھ علاج کر دیں۔اب بھلا اس کا حل سب کو معلوم ہے کہ دو گولیاں پینا ڈول یا ڈسپرین کی لے لی جائیں تو سر کا درد فوری طور پر رفع ہوجاتا ہے۔خیر اب بات کرتے ہیں ا?ن لوگوں کی جنہوں نے بد پرہیزی کو اپنے زندگی کا حصہ بنا لیا ہے۔جس کو جس شے سے پرہیزکرنے کا کہا جاتا ہے کم بخت ان کا دل ا?سی پر للچانے لگتا ہے۔چینی اور نمک زندگی کاایک لازمی جزو ہے۔ان دونوں کا نہ ہونا زندگی کی چاشنی نہ ہونے کے برابر ہے۔لیکن ڈائبٹیس کے مریض میٹھی چیز کھائے بغیر رہ نہیں سکتے اور ہسپتال جا پہنچتے ہیں۔اور پھر صرف رش میں ہی اضافہ کرتے ہیں اور پھر ڈاکٹر اچھے طریقے سے دیکھ بھال نہ کریں تو ا?س کوجان کے لالے پڑجاتے ہیں مریض کے لواحقین ہنگامہ برپاکرنا شروع کر دیتے ہیں۔اگر بھرپور پرہیز کیا جائے تو ہسپتال جانے کی نوبت نہ پڑے ایسی بیماریوں کو خود بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔اور جو وقت ایسے مریضوں کو دینا ہے وہ قیمتی وقت مہلک مرض میں مبتلا افرادپر صرف کیا جاسکتا ہے جو واقعی معائنے ا ور ڈاکٹر کی توجہ کے طلب گار ہیں۔صحت اللہ تعالی کی بہت لاجواب عنایت ہے آپ جتنی مرضی دھن دولت حاصل کرلیں اگر آپ کے پاس صحت نہیں تو کچھ بھی نہیں ہے۔جب آپ کے سانس لینے کے عمل میں رکاوٹ آنے لگے تو اس کا مطلب آپ کے پھیپھڑے متاثر ہوچکے ہیں۔اور زیادہ تر ان کے ناکام ہونے کی وجہ سگرٹ نوشی ہے۔سگرٹ نوشی سے پھیپھڑے تباہ ہوجاتے ہیں۔سرطان جیسی خطرناک بیماری لگ جاتی ہے پھر انسان کے پاس پچھتاوے کے سواء4 کچھ باقی نہیں رہتا۔پھر آخری دن قریب ہوتے ہیں اور وہ منظر بہت ہی دل دہلا دینے والا ہوتا ہے جب مریض کے گھر والے ا?س کو کوستے ہیں اور کہتے ہیں کہ نہ سگرٹ نوشی کی ہوتی اور نہ ہمیں یہ دن دیکھنا پڑتا۔ایسے لوگ خود تو تکلیف اٹھاتے ہی ہے لیکن اپنے پیاروں کو بھی تکلیف میں مبتلا کرکے رکھ دیتے ہیں۔اور پھر ڈاکٹر کی طرف تکنا شروع کردیتے ہیں کہ اب ڈاکٹر کوئی ایسی جادو کی چھڑی گھمائے گا اور سب کچھ پہلے جیسا ہوجائے گا۔لیکن یہ فقط خوش فہمی ہی ہوتی ہے۔بار بار ہاتھ دھونا بھی ایک نفسیاتی بیماری ہے ایسے افراد زیادہ بیمار ہوتے ہیں بنسبت ا?ن کے جو اپنے ہاتھ کو ہر وقت نہیں دھوتے۔ایک ڈاکٹر دوست سے بات چیت ہوئی ا?س نے کہا کہ اگر لوگ چھوٹی موٹی بیماریوں پر خود قابو پالیں تو نصف سے زائد مریضوں کی ہسپتال میں آمد کم ہوجائے۔انسان کو اللہ تعالی نے ایک ایسی زندگی سے نوازا ہے جس کو اچھے انداز میں گزار کر ہی دنیاوی اور آخروی زندگی میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔نفسیات کے دباؤ میں ایسا ہی لگے گا کہ ہر طرف بیماری ہی بیماری ہے۔زندگی سے پیار کرنا اچھی بات ہے کیونکہ اس میں رب کا شکر پنہاں ہے لیکن اتنا زیادہ بھی پیارنہیں ہونا چاہئے کہ زندگی سے محبت تو دور آپ کو زندگی جینا دو بھر لگنے لگے۔اور ایسی حالت بعض اوقات آپ کو خود کشی کرنے پر بھی مجبور کردیتی ہے۔

محمد طیب زاہر

Comment Using Facebook

Leave a Reply

Your email address will not be published.